[Umbrella body of the Indian Muslim organisations]

D-250, Abul Fazl Enclave, Jamia Nagar, New Delhi-110025 India

Tel.: 011-26946780, 9990366660


Press Statement

Mushawarat President express his concern over Army Chief’s Political commentary

New Delhi: 22 February, 2017. The latest statement of Army Chief Gen. Bipin Rawat on political journey of political parties in north east  at a function held at DRDO Bhawan on 21 February 2018 and that too at a time when two NE States, namely Nagaland and Meghalaya are going to polls in next few days is highly alarming and unjustified.

Unfortunately Gen. Bipin Rawat has unnecessarily linked the issue of illegal immigrants with the comparative analysis of the success of political parties namely AIUDF and BJP in the state of Assam. His comments are nothing but negative commentary on the rights given by the constitution to float and to ally with any political party to the citizens.

At a time when the ruling party is working to communalise the issue of influx of illegal immigrants by categorising them on religious lines, the army chief comments need urgent disapproval.

It is for the government and particularly the defence minister to take note of the statement of the Gen. Bipin Rawat and clarify whether the BJP Government approves the political commentary of the army chief.

All India Muslim Majlis-e-Mushawarat consider the statement of Gen. Bipin Rawat as the most unfortunate one and sees it as a beginning of the dangerous trend to politicalise the institution of army which is revered by all, irrespective of political ideology and affiliation.


Navaid Hamid



آرمی چیف کے سیاسی بیان پر صدرمشاورت نوید حامد کا اظہارتشویش

نئی دہلی، ۲۲ فروری ۲۰۱۷ء :فوجی سربراہ جنرل بپن راوت کا حالیہ بیان جو انہوں نے شمال مشرقی ریاستوں میں سیاسی جماعتوں کے سیاسی سفر پر ۲۱ فروری کو منعقد ڈی آر ڈی او بھون میں ایک تقریب کے دوران اس وقت دیا جب شمال مشرقی ریاستوں بشمول میگھالیہ اور ناگالینڈ میں چند ہی دنوں میں انتخابات ہونے والے ہیں ، خطرناک اور غیر اطمینان بخش ہیں۔
بدقسمتی سے جنرل بپن راوت نے غیرضروری طورپر غیر قانونی ہجرت کے مسئلے کوخطہ میں اور خصوصی طورپر ریاست آسام میں اے آئی یو ڈی ایف اور بی جے پی کی کامیابی کا مقابلہ جاتی تجزیہ کرتے ہوئے اس سے جوڑدیا۔ان کا یہ بیان دستور میں دی گئی سیاسی جماعتوں کے قیام کرنے اور شہریوں کو کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستہ ہونے کی آزادی کے حقوق کے خلاف منفی تبصرہ ہے۔
ایسے وقت میں جب کہ حکمراں پارٹی غیرقانونی مہاجرین کی دراندازی کوان کے مذہبی لائنوں پر تقسیم کرکے فرقہ وارانہ رنگ دینے کے لیے کوشاں ہیں، فوجی سربراہ کے بیان کو فوری طورپر نامنظورکرنے کی ضرورت ہے۔
یہ حکومت ہند اور خصوصی طورپر وزیردفاع کے لئے جنرل بپن راوت کے بیان پر نوٹس لینے کی ضرورت ہے اور یہ بھی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے کہ آیابی جے پی حکومت آرمی چیف کے سیاسی بیان کو منظورکرتی ہے؟
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت جنرل بپن راوت کے بیان کو نہایت بدقسمتی والے بیان سے تعبیر کرتی ہے اور اس کایہ مانناہے کہ جس فوج کو تمام شہری سیاسی وابستگیوں سے اوپر اٹھ کر عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،یہ اس کو سیاسی رنگ دینے کی شروعات ہے۔

نوید حامد

(Visited 18 times, 1 visits today)