مسلم نوجوانوں کے انکائونٹر کی تحقیقات عدالت عظمیٰ کی نگرانی میں کی جائے:آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت

نئی دہلی، ۲؍ نومبر ۲۰۱۶ ؁ء: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد صاحب نے اپنے اخباری بیان میں مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال کی ہائی سیکوریٹی جیل میں قید مشتبہ آٹھ ملزمان کو جن کے مقدمات عدالت میں زیر سماعت ہیں، ان کو منصوبہ بند طریقے سے قتل کیئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی دستور ہند کے با ضابطہ اصولوں کے خلاف اور انسانی حقوق کی قطعی طور پر پامالی ہے۔

اس ضمن میں صدر مشاورت نے خاطی پولیس اہل کاروں کے خلاف قانونی اور محکمہ جاتی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ جمہوریت کی بقا اور قانون کی بالادستی ملک کی سلامتی کے لئے نہایت ضروری ہے کہ ایک طبقہ خاص کو نشانہ بناتے ہوئے ان زیر سماعت قیدیوں کے بہیمانہ قتل کی عدالت عظمیٰ کی نگرانی میں خفیہ ایجنسی سے پابندی وقت کے ساتھ منصفانہ تحقیقات کرائی جائے۔ صدر مشاورت نے وضاحت سے کہا کہ زیڈ سکوریٹی جیل کی بیس فٹ دیوار کی اونچائی صرف چادر کے سہارے پھاندنا اور جیل کے باہر آناقطعی ممکن نہیں ہے مگر حکومت مدھیہ پردیش کا اپنے پولیس اہل کاروں کے ذریعہ فرضی انکاؤنٹرکی من گڑھنت کہانی کو اپنی زبان میں سرکاری طور پر بیان کرنا نہایت مضحکہ خیز ہے۔

انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش وہ ریاست ہے جس کے وزیر اعلیٰ شیو راج چوہان جی پر ویاپم گھوٹالے اور اس میں ملوث افراد کی مشتبہ غیر قدرتی اموات کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں لہٰذادستور کی پاسداری کے لئے یہ ضروری ہے کہ سپریم کورٹ از خود اس سفاکانہ قتل عام کا نوٹس لے اور اس کی منصفانہ تحقیقات کے لئے اپنی نگرانی میں ایس آئی ٹی کی تشکیل کا حکم دے کر جمہوریت کی پاسبانی کا قانونی عمل دہرائے۔

عبدالوحید

آفس سکریٹری

(Visited 22 times, 1 visits today)