برائے پریس

اوقاف کے مسئلہ پر
مسلم مجلس مشاورت کے وفد کی دہلی کے لفٹیننٹ گورنر سے ملاقات

نئی دہلی ، ۲۴مئی(مشاورت پریس ریلیز)۔مشاورت کے صدر جناب نوید حامد اور مشاورت کی اوقاف کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر قیصر شمیم (محمد رضوان الحق) پر مشتمل وفد نے کل سہ پہر میں دہلی کے لفٹیننٹ گورنر جناب نجیب جنگ سے ملاقات کی اور دہلی میں اوقاف کی صورتحال پر ایک میمورینڈم  پیش کیا ۔ جناب نجیب جنگ نے اس پر غور کرنے اور مناسب کارروائی کا وعدہ کیا۔
واضح ہوکہ اوقاف کے مسئلہ پر، مسلم مجلس مشاورت نے قومی سطح کی مشاورت کا جواہتمام کیا تھا اس کا اتنا بڑااثر دیکھنے میں آیا کہ ۳   اپریل، ۲۰۱۶ کو منعقدہ ،اس کی میٹنگ میں شرکت کے لیے گیارہ ریاستوں سے سوا سو لوگ شریک ہوئے جن میں وکلاء اور سماجی و سیاسی رہنماؤںکے علاوہ وقف بورڈ کے چیرمین بھی تھےاور ریاستی وزیر بھی۔اُس مشاورت کی بنیاد پر ،مسلم مجلس مشاورت نے ، ہر ریاست کےمخصوص مسائل پر مبنی مطالبات تیار کرنا شروع کیا تاکہ اسے ریاستی سرکاروں کو میمورینڈم کی شکل میں سونپا جاسکے اور اس پر عمل کرانے کی کوشش کی جائے۔اس سلسلہ کاپہلا میمورینڈم دہلی کے وزیر اعلیٰ کو ۴   اپریل،۲۰۱۶ کو سونپا گیا  تھاجس میں یہ کہا گیا کہ دہلی کی سرکار نے  وقف ایکٹ ۱۹۹۵ اور وقف (ترمیمی)ایکٹ  ۲۰۱۳  کی اہم ترین دفعات پر عمل میں کوتاہی برتی ہے جس کااوقاف کے انتظام و انصرام پر بہت برا اثر پڑا ہے۔مثلاً:
وقف ایکٹ ۱۹۹۵کی دفعہ ۴کے تحت ہر ریاست میں اوقافی جائدادوں کا ازسرنو سروے کرایا جانا تھا تاکہ ان جائدادوں کی موجودہ حیثیت سامنے آئے ونیز بہت سی کھوئی ہوئی جائدادوں کا سراغ مل سکے۔ اس سلسلے میں دہلی سرکار نے مورخہ ۲۱ جون ۱۹۹۹ کو ایک سروے کمشنر کا تقرر بھی کیا تھا مگر ہنوز سروے کا کام مکمل نہیں ہوا۔وقف (ترمیمی)ایکٹ ۲۰۱۳ میں  یہ ہدایت کی گئی کہ جن ریاستوں میں یہ کام مکمل نہیں ہوا ہے اسے ایک سال میں پورا کرکے اس کی رپورٹ کو دفعہ ۵ کے تحت نوٹیفائی کریں۔ پھر بھی دہلی کی سرکار نے اس کام میں دلچسپی نہیں لی ہے۔اس لیے دہلی سرکار سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جلد از جلد سروے کے کام کو مکمل کرکے اسے شائع کرائے؛
وقف ایکٹ ۱۹۹۵ کی دفعہ ۱۰۹  کے تحت، وقف رول اور  دفعہ۱۱۰ کے تحت ،وقف ریگولیشن شائع کیا جانا تھا۔گزشتہ وقف ایکٹ کی بنیاد پر بنا رول اور ریگولیشن گزشتہ ایکٹ کے ساتھ ہی، یکم جنوری ۱۹۷۶کو کالعدم ہوچکا ۔ تب سے اب تک ،دہلی میں  وقف ریگولیشن تو بنا ہی نہیں۔جو وقف رول ،وقف ایکٹ ۱۹۹۵ کے تحت بنا تھا اس میں بھی  وقف (ترمیمی)ایکٹ ۲۰۱۳ کے مطابق ترمیمات درکار ہیں لیکن اس کی طرف توجہ نہیں کی جارہی ہے۔ اس سے وقف بورڈکے کام میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی ہورہی ہیں اور قانونی پیچیدگیاں پیدا ہورہی ہیں۔ لہٰذا  وقف رول اور ریگولیشن کو جلد شائع کیا جائے؛
دہلی میں،وقف (ترمیمی)ایکٹ ۲۰۱۳ کی دفعہ ۸۳ کے مطابق نئے سرے سے  وقف ٹریبونل کی تشکیل نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے مقدمات میں بہت سی قانونی پیچیدگیاں پیدا پورہی ہیں۔ اسے جلد قائم کیا جائے؛
وقف (ترمیمی)ایکٹ ۲۰۱۳ کی صراحت کے باوجود  میمورینڈم دیے جانے کے وقت تک دہلی میں کل وقتی چیف اکزیکیوٹو آفیسر کی تقرری نہیں کی گئی تھی ،لہٰذا جلد از جلد کل وقتی چیف اگزکیوٹیو آفیسر بحال کیےجانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ [دریں اثنا بورڈ میں ایک ریٹائرڈ افسر کی بحالی ہوئی ہے جس میں  وقف ایکٹ ۱۹۹۵  (ترمیم شدہ  ۲۰۱۳)کے دفعہ۲۳   اور دہلی وقف رول ۱۹۹۷ کے رول ۴۳ (۱) دونوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے]؛و نیز
مسلم مجلس مشاورت نے حکومت کو یہ باور کرایا کہ مسلمانوں نے اوقاف قائم کیا ہے جبکہ اس کی نگرانی کرنے اور اس میں نظم و ضبط پیدا کرنے کے لیے ریاستی حکومت نے وقف بورڈ قائم کیا ہے جس کو چست درست رکھنے اور جس کارکردگی کو بہتر بنانے کی ذمہ داری ریاستی سرکار کی ہے۔ لہٰذا مشاورت نے مطالبہ کیا تھا کہ دہلی وقف بورڈ کی سالانہ گرانٹ کم از کم تین کروڑ روپیہ سالانہ کی جائے اور تمام خالی اسامیوں کو بھرا جائے۔
مشاورت نے وزیر اعلیٰ سے درخواست کی تھی کہ وہ اُس میمورینڈم میں مندرج مطالبات میں ذاتی طور پر دلچسپی لیں، متعلقہ محکموں سے گفتگو کریں اور پھر پندرہ دن کے اندر ملنے کا وقت دیں تاکہ ا  فسران کے ذریعہ اگر کسی قسم کا اعتراض ہوتا ہے تو مشاورت اس کا  خاطر خواہ جواب دے سکے۔ کئی بار یاددہانی کے باوجود دہلی کے وزیر اعلیٰ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ لہٰذا مشاورت  کے وفد نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کرکے ان کو مندرجہ بالا صورتحال سے آگاہ کیا اور ان امور پر ایک میمورنڈم پیش کیا ہے۔
عبدالوحید
آفس سکریٹری
کل ہند مسلم مجلس مشاورت، نئی دہلی

(Visited 25 times, 1 visits today)