MMA Vadodra 1MMA Vadodra 2

 

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی مجلس عاملہ کی اجلاس عاملہ کا بڑودا ، گجرات میں انعقاد
ملک میں بڑھتی فسطائیت ، بیروزگاری، ملی اتحاد اور مختلف تنظیمی امور پر تبادلہ خیال

نئی دہلی، ۲۴؍ اکتوبر ۲۰۱۷ء: مسلمانوں کی معروف وفاقی تنظیم آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی مجلس عاملہ کا اجلاس بڑودا کے پریزیدینٹ ہوٹل میں منعقد ہوا، جس کی صدارت صدر مشاورت جناب نوید حامد صاحب نے کی ۔ افتتاحی کلمات میں صدر مشاورت نے ملک میں بڑھتی فسطائیت ، تشدد پر مبنی سیاست ، اقلیتوں اور کمزور طبقات پر بڑھتے حملوں ، ناقص معاشی پالیسی اور فرقہ واریت پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔صدر مشاورت نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے اس بات پربھی افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ سرکارخارجہ پالیسی کو بھی فرقہ وارانہ تناظر میں مرتب کررہی ہے اور وزیر اعظم کا اسرائیل کے دورہ کے دوران ریاست فلسطین کو نظر انداز کر نااور مغربی کنارہ کا دورہ نہ کرنا ، میانمار حکومت کی حمایت اور اس صدی کے بدترین انسانی قتل عام کی مذمت نہ کرنا اس حکومت کی فرقہ وارانہ ومتعصب ذہنیت کی عکاسی ہے۔صدر مشاورت نے ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور انسانی اقدار کی گراوٹ پر بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا ۔ انہوں نے سرکار کے ذ ریعہ میڈیا کو دبانے اور آزادانہ صحافت پر گرفت کرنے کی سخت مذمت کی۔صدر مشاورت نے فلسطین کے فتح اور حماس گروپوں میں ہوئے اتحاد ی معاہدہ پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اتحاد فلسطینی عوام کی آرزووں کو پورا کرنے کی بھر پور کوشش کرے گا۔
شرکاء اجلاس کا یہ خیال تھا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت اور فسطائیت کا مقابلہ برادران وطن کے ساتھ بہتر تعلقات اور ہم خیال لوگوں سے مستقل روابط بنانے سے ہی جمہوری اقدار کے تحفظ کا کام ہو سکتا ہے۔اجلاس نے اس بات پر اپنی گہری تشویش کا بھی اظہار کیا کہ سنگھ پریوار اور موجودہ حکومت ایک منظم سازش کے تحت تمام آئینی اداروں کو کمزور کرنا چاہتی ہے اور اس کی زندہ مثال الیکشن کمیشن کا گجرات چناؤ کی تاریخوں کے اعلان میں تاخیر ہے۔مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس نے کشمیر میں جاری تشدد اور وہاں پر امن و امان کی صورت حال پر اپنی گہری تشویش کا بھی اظہار کیا اور اس بات پر اپنی بے چینی کا اظہار کیا کہ ریاست میں مستقل سیاسی حل نکالنے میں حکومت کی کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی دیتی اور تمام اعلانات صرف اعلانات کی حد تک ہی محدود ہیں۔
مجلس عاملہ نے ملک میں جاری گؤ رکشوں کے تشدد پر بھی اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس بات کی سخت مذمت کی کہ وزیر اعظم کے بیانات کے باوجود یہ ہجومی تشد رکنے کا نام نہیں لے رہا کیوں کہ اس تشددکو سنگھ پریوار اور بی جے پی حکومتوں والی سرکاروں کی کھلی پشت پناہی شامل ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرکار کے ذمہ داران مختلف زبانوں میں بول کر اس مسئلہ کو الجھائے رکھنا چاہتے ہیں۔
مجلس عاملہ کے اجلاس نے میانمار سے نکالے گئے مظلوم روہنگیا مسلمانوں کی زبوں حالی پر اپنے گہرے رنج و غم کا بھی اظہار کیا اور اس بات پر سخت مایوسی کا اظہار کیا کہ بودھ مذہب جو امن و آشتی کا مذہب ہے اس کے کچھ پیروکار مظلوم روہنگیامسلمانوں کا نہ صرف قتل عام کررہے ہیں بلکہ ان کی خواتین کی عصمت دری اور معصوم بچوں کو مارنے کے مر تکب ہیں۔ مجلس عاملہ نے عالمی برادری سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ میانمار حکومت کے خلاف تجارتی اور فوجی تعاون پر مکمل پابندی لگائی جائے ۔ مجلس عاملہ نے او آئی سی اور دیگر مسلم ممالک بشمول ترکی اور حکومت سعودی عربیہ کا شکریہ ادا کیا کہ وہ اس مسئلہ کو نہ صرف سنجیدگی سے بین الاقوامی سطح پر اٹھا رہی ہیں بلکہ مظلومین کو تمام امداد فراہم کرنے میں پیش پیش ہیں۔اجلاس عاملہ نے حکومت بنگلہ دیش کی ان تمام کوششوں کو سراہا جن کے تحت وہ اپنے ملک میں پناہ گزینوں کی دادرسی کررہی ہے۔
مجلس عاملہ نے سعودی اتحاد اور قطر کے درمیان جاری تنازعات اور عراق کے کردستان میں آزادی کے ریفرنڈم کے بعد پیداتشویشناك حالات پر بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا اور توقع ظاہر کی کہ عالم اسلام میں جاری باہمی اختلافات کا فوری طور پر کوئی حل نکلے گا۔
عبدالوحید
آفس سکریٹری

(Visited 6 times, 1 visits today)