Roznama Shara, Inquilab 22.3.18 Roznama Khabrein 22.3.18

 

 

 

 

 

https://www.nationalheraldindia.com/india/jamia-millia-islamia-goes-unrepresented-in-delhi-high-court-in-minority-status-case

http://twocircles.net/2018mar22/421910.html

http://twocircles.net/2018mar22/421910

 

MUSHAWARAT CONDEMNS ATTEMPTS TO TINKER WITH THE MINORITY CHARACTER OF JAMIA MILLIA ISLAMIA, AS ALSO SEEKS  EXPLANATION FROM THE VICE CHANCELLOR AND ITS REGISTRAR ON HIS LACKADAISICAL ATTITUDE IN PROTECTING ITS HISTORICAL CHARACTER

 

New Delhi, Dated 21 March 2018

 

The All India Muslim Majlis e Mushawarat (Apex Body of Indian Muslims & Confederation of 18 prominent Muslim Organisations) condemns attempts being made to compromise the minority status of educational institutions including that of Jamia Millia Islamia which have already been so certified by the National Commission for Minority Educational Institutions (statutory competent authority). Such attempts not only totally negate but also exposed the hollowness of the avowed slogan of the Government led by PM Narendra Modi that there should be ‘sab ka vikaas and sab ka saath’.

 

What is more surprising, as is evident from order dated 13.3.2018, that NO COUNSEL advocate appeared for and on behalf of the Jamia Milia Islamia to espouse the cause of its minority status resulting an adverse order being so passed. Such negligence, whether motivated or coincidental, is seriously culpable that an issue of paramount importance relating to a Muslim minority institution was dealt with so casually.

 

The Majlis e Mushawarat demands an immediate explanation as to how failure occurred on the part of the Jamia Millia Islamia officials including its Vice Chancellor and the registrar in failing to appear and pursue the matter. It is a known fact that the vice chancellor of the Jamia is to retire within a period of one year, and he may be exploiting such opportunities to please the ruling party in power to secure future plump postings at the expense of the future of the Muslim community.

 

Apprehending that  the cause of Jamia Millia Islamia may be unceremoniously compromised by vested elements, the Majlis has decided to intervene in the matter for the larger good of the education of Muslims and also for safeguarding the minority character of Jamia Millia Islamia.

 

Navaid Hamid

President,

All India Muslim Majlis e Mushawarat

*************************

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کو ختم کرنے کی کوشش کی مشاورت  سخت مذمت کرتی ہے اور وائس چانسلر اور اس کے رجسٹرار سے اس کے اقلیتی کردار کے تحفظ میں ڈھلمل رویہ پر وضاحت کا مطالبہ کرتی ہے: نوید حامد ‘ صدر مشاورت

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ،جامعہ ملیہ اسلامیہ سمیت دیگر تعلیمی اداروں کے اقلیتی کردار پر سمجھوتے کرنے والی کوششوں کی مذمت کرتی ہے جن کو پہلے ہی سے  اقلیتی کردار قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات (قانونی اہلیت والی اتھارٹی) سے منظورشدہ ہے۔  یہ سارے اقدامات پوری طرح سے وزیراعظم نریندرمودی کے زیرقیادت حکومت کے نمایاں نعرہ سب کا ساتھ سب کا وکاس کی نفی ہی نہیں کرتے بلکہ اس کو پوری طرح بے نقاب کرتے ہیں۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کیس میں یہ اس سے بھی زیادہ تعجب خیز بات یہ کہ 13؍مارچ 2018ء کاآرڈر بتاتاہے کہ کوئی بھی ایسا کونسل وکیل جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طرف سے کورٹ میں پیش نہیں ہواجو اس کے اقلیتی کردار کے معاملے کی تائید کرے اور نتیجتاََ اس کے برخلاف آرڈر کو پاس  ہو گیا۔ایسی لاپروائی، چاہے وہ جان بوجھ کر یا ان جانے میں ہوا ہو، سخت مجرمانہ ہے کہ ایک مسلم اقلیتی ادارے سے متعلق ایک نہایت ہی اہمیت کے حامل معاملے کو اتنے غیرذمہ دارانہ طریقے سے نبھایا گیا۔

مجلس مشاورت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ذمینداران سے  فوری وضاحت کا مطالبہ کرتی ہے کہ وہ یہ بتائے کہ اس کے رجسٹرار اور وائس چانسلرسمیت جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طرف سے یہ ناکامی کیوں کر سرزد ہوئی کہ وہ اس حساس مسلہ پر عدالت میں حاضرنہ ہوسکیں اور معاملے کو جامعہ کے موقف کوو سہی انداز میں عدالت میں کیوں نہیں  پیش کر سکیں۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جامعہ کے وائس چانسلر ایک سال کی مدت کے اندر ہی رٹائر ہونے والے ہیں اور شائد وہ ایسے مواقع کا استعمال کرکے برسراقتدار حکمراں پارٹی کو خوش کرنا چاہتے ہیں تاکہ مسلم کمیونٹی کے مستقبل کو فروخت کرکے اپنے مستقبل کی کو محفوط کرسکیں۔

اس بات کا یقین ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے معاملے پرچاہے غیرمعروف طریقے سے چند عناصرکے ذریعہ سمجھوتہ کرلیاگیاہو، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے مسلم اداروں کی بہتری اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کی حفاظت کے لیے اس معاملے میں عدالت میں مداخلت کا فیصلہ کیاہے۔

(Visited 14 times, 1 visits today)