آل انڈیامسلم مجلس مشاورت
روداد مرکزی مجلس عاملہ ، پونہ، ۳۰ جولائی ۲۰۱۷ ؁ء

ڈاکٹر فیروز اے پونا والا کی تلاوت کلام پاک سے میٹنگ کا آغاز ہوا۔
میٹنگ کا آغاز شرکاء اجلاس کے تعارف سے ہوا اور سکریٹری جنرل نے ان ارکان کا ذکر کیا جنہوں نے میٹنگ میں شرکت سے معذرت کی جن میں جناب مولانا سیدجلال الدین عمری، جناب نصرت علی، جناب پروفیسر اخترالواسع ، جناب ڈاکٹر سید کلب صادق ، جناب ڈاکٹر سید فاروق، جناب حافظ رشید احمد چودھری، جناب مولانا حافظ سید اطہر علی ،جناب ڈاکٹر ظفرالاسلام خان اور جناب غلام محمد پیش امام شامل ہیں۔
حسب معمول میٹنگ کے آغاز میں وفات پانے والے اہم بزرگوں کا ذکر کیا گیا، ان کے لیے اظہار تعزیت ، دعاء مغفرت ، بلندی درجات اور پسماندگان کے لیے صبر کی دعا کی گئی ، ان میں جناب سید شہاب الدین اور جناب محمودالرحمٰن کاخصوصی طور شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اعتراف خدمات بھی کیا گیا۔اس فہرست میں جناب مولانا خلیل الرحمٰن اور مولانا عبدالحنان جن کا حالیہ دنوں میں انتقال ہوا کا اضافہ کیاگیا۔
جناب نوید حامد، صدر مشاورت نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں حاضرین مجلس کا خیر مقدم کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا خصوصاً مشاورت کے بزرگ رکن جناب احمد رشید شیروانی ، محترمہ نصرت شیروانی اور محترمہ عابدہ انعام دار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس عظیم ادارہ میں مشاورت کی میٹنگ کا انعقاد ہمارے لئے بہت بڑا اعزازہے۔
صدر مشاورت نے مشاورت کا قیام ۱۹۶۴ء میں کن حالات میں ہوا تھا اور آج کے حالات کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کے حالات اس سے بھی بد تر ہیں۔انہوں نے مشاورت میں ۸ نئی تنظیموں اور اہم شخصیتوں کی رکنیت خصوصی طور سے اسلامک فقہ اکاڈمی کا ذکرتے ہوئے اس بات پر خوشی اور اطمنان کا اظہار کیا کہ روز بروز مشاورت پر افراد اور معروف ملی تنظیموں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ملک کے حالات کے بارے میں کہا کہ دستور کی تبدیلی کے بغیر بہت سارے کاموں کو حکومت کر سکتی ہے اور وہ تیزی سے اس طرف گامزن ہے جیسے نصابی کتابوں سے اردو شعراء کے ناموں کا نکال دینا، یوپی کے چیف منسٹر کا یہ کہنا جو مندر بنانے کی مخالفت کرے گا وہ دیش دروہی سمجھا جائے گا۔راجستھان حکومت کانصابی کتابوں میں تاریخ سے چھیڑ چھاڑ، یوگا کو نصاب میں شامل کرنا وغیرہ شامل ہے ۔ان حالات کا سامنا کرنے کے لئے UNO کے رکن ممالک کا اقلیتوں کے حقوق کیلئے قرارداد(اگریمنٹ) پر دستخط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس کا سہارا لینا چاہئے۔ہمیں غور کرنا ہوگا کہ جو اختلاف مسلمانوں سے آر ایس ایس کا ہے وہ جھگڑا عیسائیوں سے بھی ہے لیکن وہ اس پر توجہ کم دے رہے ہیں وہ اس لئے کہ عیسائی باوجود ایک چھوٹا طبقہ ہونے کے ان کے حق میں مغربی ممالک سے آواز بلند کی جاتی ہے ۔ مسلمانوں کا معاملہ یہ ہے کہ اس ملک میں اسکا حامی و ناصر صرف اللہ ہے ۔ بگڑتے ہوئے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیںیو این او اور بین الاقوامی ہیومن رائٹ اداروں کو بدلتے حالات میں مستقل مطلع کرنے کی حکمت عملی اپنانی ہوگی۔
* سدر مشاورت نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کی قربانی کے لیے تمام مسلم اور دینی تنظیموں کومل کر مشترکہ حکمت عملی اور ایک گائیڈ لائن بنانے کی طرف توجہ دلائی تاکہ ملک میں کوئی ناخوشگوار حالات پیدا نہ ہو۔بین الاقوامی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر مشاورت نے اس بات پر اطمنان کا اظہار کیا کہ صیہونی اسرائیل نے مسجد اقصیٰ میں نمازیوں کے داخلہ پر پابندیاں لگائی تھیں اس کے خلاف فلسطینیوں نے جس عزم کا اظہار کیااس عزم نے اسرائیل کو جھکنے پر مجبور کیا۔
*مشاورت کی میٹنگ:صدر مشاورت نے ڈاکٹر ظفرا لاسلام خان صاحب کے خط کا ذکر کیا جس میں لکھا ہے ’’ پچھلی میٹنگ میں آپ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اب مشاورت کی میٹنگیں مرکزی دفتر میں ہوا کریں گی کیونکہ دوسری جگہوں پر میٹنگ منعقد کرنے سے بہت سے لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے اب اس وعدے کے برخلاف پونا میں میٹنگ منعقد ہو رہی ہے‘‘ کے حوالے سے کہا کہ ہم نے کوئی وعدہ نہیں کیا تھا کہ میٹنگیں صرف دہلی میں ہوں گی۔حاضرین مجلس نے بھی گواہی دی کہ ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ میں حاضرین مجلس سے رہنمائی لینا چاہتا ہوں کہ کیا صرف دہلی میں میٹنگ ہو؟انہوں نے کہا کہ میں نے دہلی میں میٹنگ منعقد کرنے کے وقت اس کے اخراجات کے لیے ارکان مشاورت دہلی والوں سے مالی تعاون فی ممبرایک ہزار روپئے مانگا تھا تو ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب نے ذاتی طور پر مجھ سے کہا کہ یہ غیر دستوری ہے۔شیروانی صاحب نے کہا کہ جیسے دوسرے شہروں میں مقامی لوگ تعاون کرتے ہیں اسی طرح دہلی والوں کا بھی فرض ہوتا ہے وہ اس کار خیر میں حصہ لیں۔
*تجویز پیش ہوئی کہ مشاورت کی میٹنگیں دہلی سے باہر ہوں گی یا نہیں؟۔فیصلہ ہو ا کہ سال میں ایک میٹنگ مرکزی دفتر دہلی میں ہو اور باقی میٹنگیں دہلی سے باہر کی جائیں۔مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی صاحب ، جناب احمد رشید شیروانی اور مولانا عبدالحمید نعمانی نے اس کی تائید کیاور دیگر شرکاء اجلاس نے اس سے اتفاق کیا۔
اخیر میں صدر مشاورت نے حاضرین مجلس سے مالی تعاون کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ مشاورت کی مالی حالت اچھی نہیں ہے ، اس پر توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے۔ ہر ممبر کو سال میں دس ہزار روپئے کا تعاون کرنا چاہئے کیونکہ کوئی ممبر ایسا نہیں ہے جو ایسا نہ کرسکے۔اکثر شرکاء نے اس کی تائید کی اور تعاون وعدہ کیا۔
*مرکزی مجلس عاملہ و مرکزی مجلس کی مشترکہ میٹنگ منعقدہ دہلی ۱۲؍ فروی ۲۰۱۷ء کی رودادپیش کی گئی ۔روداد پر توجہ دلاتے ہو کہا کہ اسے دیکھ لیں اور اس کی توثیق کریں اور قابل اصلاح ہے تو بتائیں تاکہ اس کی اصلاح کی جاسکے۔حاضرین مجلس نے توجہ دلائی کہ امیر جماعت اسلامی اور نائب امیر جماعت اسلامی میں نام درج کیا جائے۔
*مجتبیٰ فاروق، سکریٹری جنرل نے سابقہ میٹنگ سے اب تک کی کارگزاری رپورٹ پیش کرتے ہوئے ۲۹؍ جون کی میٹنگ پر خصوصی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات پر صلاح و مشورہ و حکمت عملی طے کرنے کے لیے صدر مشاورت کی کوشش سے قائدین ملت کی نشست منعقد ہوئی۔ اس میٹنگ میں مولانا ارشد مدنی، مولانا سید جلال الدین عمری، مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی، جناب نصرت علی، جناب ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس، جناب ای ٹی محمد بشیر، ایم پی، ڈاکٹر بصیر احمد خان، پروفیسرمحمد سلیمان،جناب اے یو آصف ، جناب مجتبیٰ فاروق، سکریٹری جنرل او ر جناب نوید حامد، صدر مشاورت شریک ہوئے ۔ ان لوگوں کا احساس تھاکہ مسلمانوں میں اضطراب اور خوف کو سمجھنا چاہئے۔ جتنا ہم محسوس کررہے ہیں اتنا نہیں ہے۔ ابھی سخت رد عمل کا اظہارنہ کریں۔ ہندو جذبات کو جو غیر معمولی بھڑکایا گیاہے ، یہ پالیسی ملک کے خلاف ہے۔ اکثریت سے میل جول بڑھائیں۔صدر مشاورت کے ذریعہ وزیر اعظم کو لکھا گیا کھلا خط کا نوٹس پی ایم او نے لیا۔ PMO نے بات کرنے کے لیے عندیہ دیاتھا چنانچہ جماعت اسلامی ہند اور بزرگوں سے مشورہ کیا گیا ۔ اسٹنڈنگ کمیٹی کے ذمہ داران نے بھی ملاقات کی تائید کی اور کہا کہ ہم ان کی بات سمجھ لیں۔
*صدر مشاورت نے بتایا کہ جناب امان اللہ خان کے استعفیٰ کے بعد مولانا عبدالحمید نعمانی کو جنرل سکریٹری بنایا گیا۔
*دفتر کا Renovation کی تفصیل پیش کی گئی ۔ شرکاء نے پسند یدگی کا اظہار کیا۔
*ریاستی مسلم مجلس مشاورت گجرات و مدھیہ پردیش کی تشکیل نو ہو چکی۔
*کیرالہ، اسام ، تامل ناڈو اور مہاراشٹرا کی تشکیل جلد ہو جائے گی۔
*آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی ملکی سطح کی ایک خواتین کی کمیٹی ہو۔ یہ تجویز محترمہ عظمیٰ ناہید صاحبہ نے پیش کی ۔ان سے کہا گیا کہ اس کی ضرورت ہے لیکن ملکی سطح پر اجتماعی رابطہ کے بعد یہ کرنا بہتر ہوگا۔
*مشاورت بلدنگ کا مسئلہ : ابھی تک بلڈنگ مشاورت ٹرسٹ میں منتقل نہیں ہوئی ہے۔اس کے لیے ایک نیا ٹرسٹ کا ڈرافٹ تیارہوگیا ہے ، اس کی ذمہ داری جناب نوید حامد نے لی ہے۔ نوید صاحب نے بتایا کہ نئے ٹرسٹ میں سید شہاب الدین صاحب کی فیملی میں سے ایک فرد کو ان کے اصرار کرنے پر لیا جائے گا ورنہ نہیں۔
*نیشنل ایجوکیشن کانفرنس کرنے کے سابقہ فیصلہ کو برقرار رکھا گیا ۔
*یوتھ کانفرنس کے لئے پہلے SIO کو ذمہ داری دی گئی تھی ، وہ اسے پوری نہیں کر سکے اب یہ ذمہ داری جناب عامر ادریسی ، صدر AMP کو سپردکی جارہی ہے ۔انہیں مناسب افراد کی کمیٹی بناکر وہ اس کام کو انشا ء اللہ جلد انجام دینے کی طرف متوجہ کیا جائے۔
*طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر عاملہ کو احساس تھا کہ اس مسئلہ کو جیسا حل کرنا چاہئے تھا شاید ویسا نہیں ہو سکا۔عدالت عظمیٰ کا رجحان ، اہل اقتدار کی سوچ اور خود ملت میں خواتین ، نوجوانوں میں جو بے اطمنانی پائی جارہی تھی اس کی روشنی میں مشاورت نے کچھ سفارشات تجویز کیے تھے ان کا بروقت لحاظ کیا جاتا تو شاید شکایت کی یہ نوعیت نہ ہوتی۔
دستاویزات مشاورت: ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کا خط پڑھ کر اور فوٹو کاپی کر کے حاضرین اجلاس کو تقسیم کیا گیا۔مجتبیٰ فاروق صاحب نے بتایا کہ اجتماعی فیصلہ ہے کہ وہ دستاویزات مشاورت سے متعلق ہے اس لیے کوشش ہوکہ مشاورت ہی اسے شائع کرے لیکن ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب دستاویزات دینے کے حق میں نہیں ہیں۔
صدر مشاورت نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ تمام میٹنگوں میں اٹھایا گیااور فیصلہ ہوا کہ مشاورت کو وہ ڈاکومینٹ واپس کیا جائے۔ڈاکومینٹ واپس نہ کرنا صریحاً بد دیانتی ہے۔اس مسئلہ پر آخری فیصلہ کیا جائے کہ اس کا کیا کیا جائے؟مجتبیٰ فاروق صاحب نے تمام خط و کتابت کو ارکان عاملہ کے سانے رکھا ۔
جناب احمد رشید شیروانی صاحب نے کہا کہ یہ ایک چھوٹا سا معاملہ ہے اس پر زیادہ بحث کرنا مناسب نہیں ہے۔جناب منور پیر بھائی نے کہا چونکہ محنت و ریسرچ ورک کیاہے ریفرنس میں ان کا نام شامل کیا جائے اور مشاورت ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے شائع کرے۔
* جناب محمد احمد صاحب نے کمیٹی بنانے کی بات کہی جب کہ کمیٹی پہلے ہی سے بنی ہوئی ہے اور اس کمیٹی نے ان سے ملاقات کرکے اس معاملہ کی یکسوئی کے لیے کوشش بھی کی گئی ۔ڈاکٹر صاحب اپنے اسٹنڈ پر قائم ہیں۔سید تحسین احمد صاحب نے سابقہ میٹنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب نے کہا تھا کہ میرا جو صرفہ ہو ا ہے مشاورت ادا کردے اور دستاویزات لے لے۔جناب نوید حامد صاحب نے کہا کہ ہم انہیں سوا تین لاکھ روپئے کی ادائیگی کی پیش کش کی گئی تھی یہ بات کولکاتہ کی میٹنگ میں کہی گئی تھی۔ ڈاکٹر کوثر عثمان صاحب اور جناب عبدالعزیز صاحب نے کہا کہ یہ معاملہ سابقہ چار میٹنگوں میں باربار اٹھایا گیا اب اس پر مزید وقت ضائع نہ کیا جائے۔عامر ادریسی صاحب نے کہا کہ ایک ٹائم بونڈ کمیٹی بنائی جائے اور طے کیاجائے۔مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کا کہنا ہے کہ اس دستاویزات کی اصلیت کا پتہ ضرور ہونا چاہئے ورنہ وہ لا حاصل ہے۔
آمد و صرف کا گوشورہ: جناب احمد رضا ، جنرل سکریٹری، فینانس نے جنوری تا ۲۵؍ جولائی تک کا آمد و صرف کا گوشورہ پیش کیا جسے مجلس عاملہ نے توثیق کردیا۔
ملک کی صورت حال: صدر مشاورت نے ملک کی صورت حال پر تجاویز طلب کی تو عامر ادریسی صاحب نے کہا کہ ملک کی صورت حال پر ملک بھر سے تجاویز طلب کی جائیں اور ضرورت مندوں کو لیگل سپورٹ مہیا کرنے کی ضرورت ہے۔
*محترمہ ڈاکٹر رخسانہ لاری صاحبہ نے تعلیمی اداروں میں سیلف ڈیفینس کی ٹریننگ دینے کی طرف متوجہ کی جائے۔جناب مجتبیٰ فاروق صاحب نے کہا کہ ملک کی صورت حال پر سب لوگ تجاویز پیش کریں ، اس کو جمع کرکے اس پر عمل درآمد کیا سکتا ہے۔جناب مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کہا اس ادارہ سے سیلف ڈیفینس کی تجویزدینا اس ادارہ سے اچھا نہیں ہے۔ ڈاکٹر کوثر عثمان صاحب نے کہا یہ طریقہ آرایس ایس کا پیدا کیا ہوا ہے اس کے خلاف ایسی حکمت عملی بنائیں جس سے اس کا مقابلہ کیا جاسکے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوپی جیلوں میں زیادہ تر مسلمان ہیں مشاورت کو چاہئے کم از کم ایک فہرست تیار کرکے ان بے قصور افرادکی ضمانت کی تدبیر کی جائے۔
اتر پردیش ریاستی مسلم مجلس مشاورت:ایجنڈا کے مطابق اترپردیش مشاورت کی نو منتخب یونٹ کے عہدیداران کی سوچ اور طریقہ کار مشاورت کے مقاصد اور طریقہ کار سے ہم آہنگ نہیں پائے گئے ہیں۔ افہام و تفہیم کے باوجودوہ اپنی رائے بدلنے پر بھی امادہ نہیں ہیں لہٰذا مرکزی مجلس عاملہ نے متفقہ طور پر یہ طے کیا ہے کہ اترپردیش یونٹ کو تحلیل کردیا جائے۔نیز یہ بھی فیصلہ ہوا کہ آئندہ انتخابات ہونے تک ایک عبوری کمیٹی تشکیل دی گئی ، جس کی دستور کی روشنی میں اندرون ۶ ماہ انتخابات کرانے کی ذمہ داری ہوگی۔ عبوری کمیٹی کے ذمہ داران و ممبران درج ذیل ہیں :۔ جناب ارشد اعظمی۔ کنوینر، جناب ڈاکٹر ملک فیصل۔ کو کنوینر، جناب مولانا مصطفی ندوی، جناب مولانا شہاب الدین، محترمہ رخسانہ لاری ، جناب اختر حسین اختر اور پروفیسر محمد سلیمان ممبران ہوں گے۔ڈاکٹر کوثر عثمان صاحب نے یوپی ریاست کو ایک حساس اور فریسٹریشن اور کنفیوزن ریاست قرار دیتے ہوئے ایک مضبوط شخصیت کو ذمہ داری دینے کی بات کہی اور کہا کہ اس کی صحیح رہنمائی کرنے کے لیے آپ کو خود ذمہ داری لینی ہوگی۔ سیاسی حکمت عملی کے پیش نظر ایس پی اور بی ایس پی کے پاس جا کر ان سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔میں ان کے ساتھ میٹنگ کرا سکتا ہوں ۔ یوپی میں شیعہ سنی اور بریلوی دیوبندی کو آپس میں لڑانے کی سازش ہو رہی ہے۔نوید حامد صاحب نے کہا کہ یوپی کی یونٹ بہت اچھا کام کرے گی سابق صدر نے مشاورت کی حیثیت کو زیرو کردیا ہے۔
* دوپہر کے طعام و نماز ظہر کے بعد دوبارہ سیشن شروع ہوا۔
*عیدقربانی کے تعلق سے گؤ رکشا والوں کی طرف سے اندیشوں پر گفتگو کے بعد جناب مولانا عبدالحمید نعمانی نے تجویز پیش کی جو درج ذیل ہے۔
* آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی مرکزی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس قربانی کو ایک مذہبی فریضہ تصور کرتے ہوئے ، مسلمانوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ شر سے بچتے ہوئے قربانی کے عمل کو بہتر طریقے سے انجام دیں، اور جہاں پر کسی جانور کا ذبیحہ یا قربانی قانوناً ممنوع ہو وہاں قانون کی پابندی کرتے ہوئے متبادل پر عمل کریں۔ یہ اجلاس مرکزی اور ریاستی سرکار سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مذہبی آزادی کا تحفظ کرتے ہوئے مسلمانوں کی مذہبی فریضے کی ادائیگی میں آنے والی روکاٹوں کو دور کریں۔
*کشمیر: کشمیر میں ظلم و بربریت کے خلاف ایک قرار داد پاس کیا گیااور فیصلہ ہوا کہ سابق کی طرح مشاورت کا ایک وفد ایک بار پھرکشمیر جا کر کشمیری قیادت سے بات کرے ۔ شیروانی صاحب نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلہ کو اس طرح پیش کریں کہ کشمیر کے علاوہ نیکسلائٹ اور نارتھ ایست میں بھی یہ سب ہو رہا ہے۔ سیف الدین سوز صاحب جو سابق میں مشاورت کے عہدیدار رہے ہیں،محبوبہ مفتی صاحبہ ، حریت کانفرنس ، سول سوسائیٹی ، مشاورت میں شامل جماعتوں اور دیگر لوگوں سے بات کریں۔ مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی صاحب نے کہا کہ ملنے سے فائدہ ہوگا۔نوید حامد صاحب نے کہا کشمیر میں ظلم بند ہونا چاہئے۔مجوزہ کشمیر ریزولیوشن پر اختلاف ہو اکہ یہ دورہ کشمیر کے بعد ہونا چاہئے۔
*بہار کے موجودہ صورت حال اور دیگر ملکی و غیر ملکی امور پر تجاویز پاس کی گئیں جو درج ذیل ہیں۔
* آخر میں صدر مشاورت نے محترم پی اے انعامدار ، عابدہ انعامدار صاحبہ اور منور پیر بھائی کی جانب سے عاملہ کے اجلاس کی احسن میزبانی کی تعریف کی اور اللہ کے شکریہ ادا کرتے ہوئے میزبانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور دعا پر اختتام عمل میں آیا۔
مجلس عاملہ کی میٹنگ میں جو حضرات شریک ہوئے وہ درج ذیل ہیں:۔
۱۔ جناب نوید حامد، دہلی
۲۔ جناب مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، دہلی
۳۔ جناب مجتبیٰ فاروق، اورنگ آباد
۴۔ مولاناعبدالحمید نعمانی، دہلی
۵۔ جناب سید تحسین احمد، دہلی
۶۔ جناب عبید اللہ سلفی، پونے
۷۔ جناب محمد احمد، دہلی
۸۔ جناب عبدالعزیز ، کولکاتہ
۹۔ جناب مختار عالم، کولکاتہ
۱۰۔ ڈاکٹر فیروز اے پونا والا، پونے
۱۱۔ جناب احمد رشید شیروانی، گڑگاؤں
۱۲۔ محترمہ نصرت شیروانی، گڑگاؤں
۱۳۔ جناب ظہیرالدین صدیقی، ممبئی
۱۴۔ جناب مولانا محمد شعیب کوٹی، ممبئی
۱۵۔ ڈاکٹر کوثر عثمان، لکہنؤ
۱۶۔ جناب عامر ادریسی، ممبئی
۱۷۔ جناب شبیر احمد انصاری، ممبئی
۱۸۔ جناب منور پیر بھائی، پونے
۱۹۔ محترمہ عابدہ انعامدار، پونے
۲۰۔ جناب تاج محمد خان، میسور
۲۱۔ جناب ڈاکٹر سید مہر الحسن، بھوپال
۲۳۔ محترمہ عظمیٰ ناہید
۲۴۔ محترمہ ڈاکٹر رخسانہ لاری ، لکہنؤ
۲۵۔ جناب احمد رضا قاری
نوٹ:میٹنگ میں منظور شدہ ریزولیوشن کی کاپی منسلک ہے۔

مجتبیٰ فاروق
سکریٹری جنرل

(Visited 3 times, 1 visits today)