آل انڈیامسلم مجلس مشاورت
روداد مرکزی مجلس عاملہ، منعقدہ پریزیدینٹ ہوٹل، بڑودہ، گجرات، ۲۲ اکتوبر ۷۱۰۲ ؁ء

سکریٹری جنرل جناب مجتبیٰ فاروق نے اجلاس مجلس عاملہ کی نظامت کرتے ہوئے حاضرین مجلس کا شکریہ ادا کیا۔ مجلس کا آغاز جناب مولانا حافظ سید اطہر علی صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔
میٹنگ شرکاء اجلاس کے تعارف سے ہوا۔حسب معمول میٹنگ کے آغاز میں وفات پانے والے اہم بزرگوں کا ذکر کیا گیا، ان کے لیے اظہار تعزیت، دعاء مغفرت، بلندی درجات اور پسماندگان کے لیے صبر کی دعاکی گئی۔ پیش کی گئی فہرست میں ایک نام محترمہ نسیم حیات کا اضافہ کیا گیاجن کا ۲۰؍ اکتوبر کو سرج مہاراشٹرامیں انتقال ہوا۔
نکات افتتاحی کلمات صدر مشاورت:صدر مشاورت جناب نوید حامد صاحب نے افتتاحی تقریر میں کہا کہ’’مشاورت کے عہدیداروں کی میقات دو سال کی ہوتی ہے۔۱۶؍جنوری۲۰۱۶ء کو جب میں نے مشاورت کے دفتر کا چارج سنبھالا تھا تو آپ میں سے کچھ لوگ تھے اور کچھ نہیں تھے۔ میں نے اس وقت جن نکات کی طرف اشارہ کیا تھا ان میں سے کچھ اہم نکات اس لیے دہرانا چاہتاہوں کہ یہ رواں میقات کی آخری عاملہ میٹنگ ہے اور آج اس اجلاس میں آنے والی میقات کے چناؤ کا اعلان ہوگا۔
’’آپ جانتے ہیں کہ مشاورت میں۲۰۱۵ء تک۹ جماعتیں شامل تھیں، نئی میقات میں مشاورت میں مزید ۹ مؤقرجماعتیں شامل ہوئی ہیں اور اب اس میں تنظیمی ارکان کی تعداد ۱۸ ہوئی ہیں۔صدر مشاورت نے کہاکہ ۸؍ جنوری ۲۰۱۶ء کو چارج لیتے وقت اس بات کی یاد دہانی کرائی تھی کہ مشاورت مختلف الخیال لوگوں کے اجماع کا نام تھا جو دھیرے دھیرے ہم خیال لوگوں کے گروپ میں تبدیل ہو گیا اور اور اب وقت آگیا ہے کہ اس کے کھوئے ہوئے وقار کو واپس لایا جائے جو مشاورت کی خوبی اور امتیاز تھا۔اس نکتہ کو ذہن میں رکھ کر تمام جماعتوں سے بات کی گئی ان سے بھی جو یا تو ماضی میں مشاورت کی حصہ تھیں اوران سے بھی جو اب ملت کے اہم اداروں اور تنظیموں میں شامل ہیں اور الحمد للہ اس میقات میں ۹ جماعتوں کو مشاورت میں شامل کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ۔یہ مشاورت کی تاریخ میں سب سے زیادہ تنظیمی ارکان کی تعداد ہے۔آپ واقف ہیں کہ مشاورت کا قیام۱۹۶۴ء میں اس وقت ہوا تھا جب ملک کو آزاد ہوئے صرف ۱۷برس ہوئے تھے اور ملک میں منظم انداز میں اچانک فسادات کا لامحدود سلسلہ شروع کردیاتھا۔ یوپی، بہار، اڑیسہ، مغربی بنگال، مہاراشٹرا، مدھیہ پردیش میں فسادات کی جھڑی لگ گئی تھی۔اس وقت کے اکابرین اور سیاسی رہنماؤں کو ایسا لگ رہا تھاکہ ملک سے مسلمانوں کو پاکستان میں ڈھکیل دیا جائے گا۔ایسے برے وقت میں ہمدردان قوم نے لکھنؤ میں بیٹھ کر مشاورت کو قائم کیااور مشترکہ وفد کی شکل میں پورے ملک کا دورہ کیاجس سے مسلمانوں کا اسی ملک میں مرنے جینے پر اعتماد بحال ہوا۔اگر مشاورت کی کاوشوں پر نگاہ ڈالی جائے تو مشاورت نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اقلیتی کردار کی بحالی کے لیے پورے ملک میں پرزور تحریک چلائی۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو قائم کیا، انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کو قائم کرنے کی تحریک اسی نے شروع کی جو ایک فعال ادارہ بن چکا ہے۔ اجودھیامیں بابری مسجد کا تالاکھلنے کے بعد مشاورت نے بابری مسجدتحریک چلا کر اس ناانصافی کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرائی۔ شاہ بانو مقدمہ میں بھی اس نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیااور پرسنل لابورڈ کی تحریک کا ساتھ دیا۔ اس کے علاوہ اور بھی ملی مسائل کے حل کرنے میں اس کااہم رول رہا ہے‘‘۔صدر مشاورت نے سامعین کو توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ’’یہ نظریاتی تصادم کا دورہے۔تاریخ ایسا یوٹرن لے رہی ہے جب یہ سوال کیا جانے لگا ہے کہ کیا بھارت میں جمہوری نظام جس کی وجہ سے یہ ملک پورے عالم میں جانا جاتا ہے ،کیا وہ باقی رہے گا؟۔جس دستور اور آئین پر ہمیں فخرہے اور تھا،کیا وہ باقی رہے گا؟آج جمہوریت میں تشددداخل ہوگیا ہے۔ محترمہ گوری لنکیش کا قتل سوچنے کی آزادی کا قتل ہے۔ دہلی کے ایک چھوٹے اردواخبار کے ۳۲ سالہ صحافی کومودی مخالف مضمون لکھنے پرٹیلیفون پر دھمکی دی جاتی ہے اور پولیس کو شکایت کرنے پر جواب ملتا ہے، ایسا ہوتا رہتا ہے اور نمبر ٹریس نہیں ہو رہا ہے۔ پورے ملک میں ناقدین پر نظر رکھی جارہی ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی آنکھیں کھلی رکھیں‘‘۔صدر مشاورت نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ’’آر ایس ایس مفکر پروفیسر راکیش سنہا اپنے ادارہ ’’انڈیا پالیسی فاونڈیشن‘‘ کے تحت پندرہ روزہ ’’ریویو آف اردو پریس‘‘ کے نام سے رسالہ نکالتے ہیں جس میں ملک بھر کے اردو اخباروں میں چھپی کچھ اہم خبروں کو جو ان کے نکتہ سے ضروری ہیں، ان کے تبصرہ کے ساتھ ہندی اور انگلش میں ترجمہ کرکے آر ایس ایس کے ذمہ داروں اور ہمنواؤں کو بھیجتے ہیں۔ ان کے کیا عزائم ہیں اس پر غور کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ہم کہاں ہیں؟‘‘
صدر مشاورت نوید حامد صاحب نے ملک کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ ’’ملک میں ایک نیا ماحول بنایا جارہا ہے، پچھلے ساڑھے تین سالوں میںیہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ موجودہ حکومت کے ذمہ داران ملک کو کہاں لے جانا چاہتے ہیں۔بیوروکریٹ جوملک کے انتظامیہ کو چلاتے ہیں، ان کے بے وجہ بار بار تبادلہ کئے جاتے ہیں۔ اسے آپ کیا کہیں گے کہ مودی حکومت نے وزارت خزانہ کے سکریٹری کو سزا کے طور پر اقلیتی امور کی وزارت کا سکریٹری بنادیا، وہ بھی صرف اس لیے کہ وزارت خزانہ کے سکریٹری نے سرکار کی اقتصادی پالیسیوں پر اعتراض کیا تھا۔اقتصادیات کو دیکھتے ہیں تو مودی سرکار نے ملک کے نوجوانوں سے دو کروڑ روزگارہر سال دینے کا وعدہ کیا تھا۔ روزگار تو کیا دیا جائے گا، اس کے برعکس ۸۱لاکھ لوگ اب تک بے روزگار ہو گئے ہیں۔بہت سے سرکاری محکموں میں بھی آسامیاں خالی ہیں اور ایک نئی شروعات کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اب سرکار میں بھی عملہ کو کنٹریکٹ اسکیم کے تحت لیا جارہا ہے۔ بیف (گائے اور دوسرے بڑے جانوروں کے گوشت)پر متعصب پالیسی اپنانے کا مقصدکمزور طبقات بشمول دلت، آدی واسی اور مسلمانوں کوجو اس پیشہ سے وابستہ ہیں ان کواقتصادی طور پر کمزور کرنا اورسستاپروٹین سے محروم کرناہے۔کسانوں نے اب گائے پالنا چھوڑ دیا ہے۔ریاست راجستھان، مہاراشٹرا کے کسان اس پالیسی کے خلاف سڑک پر آگئے ہیں۔اس طرح کے مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے برسر اقتدار پارٹی کے ارکان ایودھیامیں رام مندراورتاج محل جیسے مسائل کو ابھاررہے ہیں۔سنگھ پریوار کے لوگ الگ الگ باتیں کررہے ہیں یہی ان کی پرانی پالیسی ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی گؤ رکشکوں کے تشدد کی ایک طرف مذمت کرتے ہیں تو وہیں سنگھ سربراہ موہن بھاگوت وجے دشمی کے موقع پر یہ کہتے ہیں کہ گؤ رکشک گؤ ماتاکی خدمت کررہے ہیں۔ناقدین مسلمانوں میں مایوسی پھیلانا چاہتے ہیں لیکن ہمیں مایوس نہیں ہونا ہے کیونکہ یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ بحیثیت ذمہ داروں کے ہمیں پوری ذمہ داری سے ملت کو مایوسی سے بچانا ہے اور یہ ہمارے عین فرائض میں شامل ہے‘‘۔
صدر مشاورت نے ریاست جموں و کشمیر پر کہا’’کشمیر کا برا حال ہے۔ اس سے پہلے پیلٹ گن پر میں نے کہا تھا کہ اس سرکاری تشدد سے مرکز کشمیر کو زندہ شہید دے رہا ہے اب بھی ریاست کے حالات مایوس کن ہیں۔کشمیرکے پولیس افسران بھی اب کہہ رہے ہیں ’’کشمیرایک سیاسی مسئلہ ہے‘‘اسے فوجی کارروائی سے نہیں حل کیا جاسکتا۔وزیر اعظم شری نریندر مودی نے ۱۵؍ اگست کو لال قلعہ سے کہا تھا کہ کشمیر کا حل گولی سے نہیں گلے لگانے سے نکلے گا‘‘لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ دو ماہ گزرنے کے بعد بھی مرکزی سرکار کی طرف سے اس سلسلے میں کچھ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ مسلمانوں کو مسئلہ کشمیر پر بولنا چاہئے اور اسے مذہب کے آئینہ سے نہیں دیکھا جانا چاہئے کیونکہ یہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف اٹھنے والی آواز ہوگی‘‘۔
صدر مشاورت نے عالم اسلام کی طرف توجہ دلاتے ہو کہا کہ قطر اور سعودی عربیہ کے درمیان اضطراب ہے، تو دوسری طرف عراق میں کرد علاقہ میں آزادی کے لیے ریفرنڈم ہوا ہے اورعراق و کرد قائدین میں سخت اختلاف ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں اور حکومت میانمار قتل عام کررہی ہے اور تقریباًآٹھ لاکھ روہنگیا مسلمان اب تک ظلم کا نشانہ بن کر میانمار سے ہجرت کر چکے ہیں اوران مین سے ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد بنگلہ دیش میں پناہ گزیں ہیں۔کوئی بھی ملک خاص کر غریب ملک اتنی بڑی تعداد میں مہاجرین کی تن تنہا مدد نہیں کر سکتا اس لیے تمام انسان دوست افراد کو ان کی مدد کے لیے آگے آنا چاہئے۔حکومت ہند کی روہنگیا مسلمانوں پر متعصبانہ پالیسی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے صدر مشاورت نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ بد قسمتی سے بھارتی حکومت بھی اس تعلق سے فرقہ وارانہ پالیسی پر کار فرما ہے اور متعصب ذہنیت کا مظاہرہ کررہی ہے۔ ملک کی سیکڑوں سالہ مہمان نوازی کی تہذیب کے خلاف سرکار روہنگیا مسلمانوں کی زبوں حالی اور ان کی ملک میں ہجرت پر اس لیے مخالفت کررہی ہے کیونکہ یہ مہاجرین مسلمان بھی ہیں‘‘۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آج کا یہ اجلاس ملت کے سامنے جو چیلنجز ہیں اس پر کھل کر نہ صرف گفتگو کرئے گا بلکہ متعین لائحہ عمل تیار کریں گے‘‘۔صدر مشاورت نے ملک میں نفرت پھیلانے والے اور مسلم مخالف ماحول بنائے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ’’ہمیں برادران وطن کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ فاشسٹ قوتوں کا مقابلہ متحدہ طور پر کیا جاسکے جو اس ملک کی جمہوریت کو بچانے میں کار آمد ثابت ہوگا۔‘‘صدر مشاورت نے اس بات کی خواہش اور امید کا اظہار کیا کہ’’آنے والی میقات میں جو بھی ذمہ دار بنے گا، ان کو اور ان کی ٹیم کو مشاورت کے ہمدردان کا تعاون ایسا ہی ملتا رہے گا‘‘۔ انہوں نے شرکاء اجلاس کو مطلع کیا کہ’’وہ آئندہ انتخابات میں حصہ نہیں لینا چاہتے ہیں اور اس فیصلے پر وہ سنجیدگی سے غور کررہے ہیں‘‘۔
شرکاء اجلاس نے متفقہ طورصدر مشاورت سے اگلی میقات کے لیے ذمہ داری سنبھالنے پر اصرار کیا اور درخواست کی کہ وہ ایسا کوئی فیصلہ نہ لیں جومشاورت کے مفادات کے خلاف ہو وہ اپنے اس فیصلہ پر نظر ثانی کریں، کیونکہ مشاورت کی جونشاط ثانیہ ہوئی ہے اسے مزید مستحکم کرنے کی ابھی ضرورت ہے۔اخیر میں صدر مشاورت نے شرکاء اجلاس کاایک بار پھر استقبال کیا اور اپنی طرف سے ان کی شرکت کے لیے شکریہ بھی ادا کیا۔
*مجتبیٰ فاروق صاحب نے صدر مشاورت کے افتتاحی کلام کے بعدگجرات کی ریاستی مشاورت کے عہدیداران اور کارکنان کا مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کا بڑودہ میں انعقاد کرنے پرشکریہ ادا کرتے ہوئے خصوصی طور پر اس کے صدر جناب محمد شفیع مدنی،جناب زبیر جبار گوپلانی، عقیل سید صاحب کا شکریہ ادا کیا اور جناب پروفیسرجے ایس بندوق والا کااجلاس میں شرکت کا ذکر کرتے ہوئے ان سے رکنیت مشاورت کی تجدید کی درخواست بھی کی۔
*سکریٹری جنرل صاحب نے عمل درآمد رپورٹ پر توجہ دلاتے ہوئے حاضرین مجلس کو پڑھ کر سنایا، اس کے بعد بحث کا آغاز ہوا۔
*عمل درآمد رپورٹ پر بحث کرتے ہوئے جناب مولانا حافظ سید اطہر علی نے برادران وطن کے ساتھ روابط پر توجہ دلاتے ہوئے کہا ہم بہت اچھی گفتگو اور نشست توکر لیتے ہیں اور تجاویز بھی پاس کر لیتے ہیں لیکن ہم اس کے بعد زمینی سطح پر کام نہیں کرتے ہیں۔انہوں ے کہا ’’غیر مسلموں سے روابط کو منظم طور پر آگے بڑھایا جانا چاہئے۔ان کی رائے تھی کہ دلتوں اور اوبی سی کو ساتھ لے کر چلنے کی بات ملی کونسل میں بھی ہو رہی ہے لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ دلت اور او بی سی طبقات ہم سے بھی زیادہ منتشر ہیں۔ مولانا خلیل الرخمٰن سجاد نعمانی صاحب ممبئی میں رہ کر کام کررہے ہیں تو دوسری طرف مولانا محمود مدنی صاحب بھی اس کام میں لگے ہوئے ہیں۔ اگر یہ تمام لوگ ایک پلیٹ فارم سے اس کام کو کریں تواچھا نتیجہ نکل سکتا ہے‘‘۔
*مولانا سید اطہر علی نے ملی جماعتوں کے ٹیلی ویژن ڈبیٹ میں ترجمان متعین کرنے کے تعلق سے کہا کہ ملی جماعتیں ترجمان متعین کردیں تاکہ معقول بات کی جاسکے، مسئلہ افراد کا نہیں ہے ٹی وی اینکروں کے رویہ کا ہے کہ وہ مباحثوں میں مسلم نمائندوں کو وقت کم دیتے ہیں اور اگر دیتے بھی ہیں تو وہ کس موقع پر کس کو دیں گے یہ مباحثہ کا رخ طے کرتی ہے۔جب آپ اپنی مدعا کی بات کرتے ہیں تو ٹی وی اینکر ٹوک دیتا ہے اور روک دیتا ہے یہ خصوصاً زی ٹی وی، انڈیا ٹی وی جیسے ٹی وی چینل کرتے ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیاکہ ہم ٹی وی ڈیبیٹ میں حصہ لینا بند کردیں۔انہوں نے جنرل سکریٹری مولانا عبدالحمید نعمانی کی طرف سے بابارام دیو پر مشاورت کے بیان کی تعریف کی اورملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر منظور عالم صاحب سے ملاقات کواچھی پہل اور نیک شگون قرار دیا۔
*جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری جناب محمد احمد صاحب نے اس بات کی اطلاع دی کہ علماء دیوبند نے ٹی وی ڈبیٹ کی بائیکاٹ کرنے کی درخواست کی ہے اور مسلمانوں کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔محترمہ عظمیٰ ناہید صاحبہ نے کہا مسلمانوں کو مونیٹر کیا جارہا ہے؟ اس کا کیا حل ہے اور مشورہ دیتے ہوئے کہا ہمیں سوشل میڈیا کوزیادہ امپاور اور مضبوط کرنے پرکام کرنا چاہئے۔سید ثمر حامد صاحب نے ٹی وی ڈبیٹ کے تعلق سے کہا کہ’’ہمیں بہت کم موقع آتا ہے۔ سوال کا جواب دیں اگر وہ ہمیں گمراہ کرنا چاہتے ہیں اور غلط راہ پر چلانا چاہتے ہیں تو ان سے اسی طرح ٹی وی مباحثہ میں شرکت کرنے والے افراد پیش آئیں۔ یہ متضاد کلام سے پیش آتے ہیں، ہم مضبوطی سے اپنے دعوے کو پیش کریں‘‘۔دوسرے شرکاء جنہوں نے اس مسئلہ پر گفتگو کی ان میں مولانا سید اطہر علی، ڈاکٹر سید مہرالحسن، جناب محمد احمد، عظمیٰ ناہید صاحبہ اور جناب شفیع مدنی صاحب شامل ہیں۔
مولانا عبدالحمید نعمانی نے سید ثمر حامد کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہ کہاکہ ٹی وی مباحث میں اپنی بات پوری طاقت سے کہنی چاہئے، تاریخ ہمیں معلوم ہونی چاہئے، قرآن و حدیث کے علاوہ رمائن اور گرنتھ کاعلم بھی ہونا چاہئے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک ٹی وی مباحثہ میں جب ایک صاحب نے یہ کہاکہ اورنگ زیب جزیہ لیتے تھے تو ہم نے شیواجی کے چوتھ کا سوال اٹھادیا۔ ٹی وی ڈبیٹ کے بائیکاٹ کی بات نہیں کریں اسے آپ روک نہیں سکتے ہیں۔ مجتبیٰ فاروق صاحب نے تجویز پیش کی کہ ایک کمیٹی بنائی جائے تاکہ اس کے خاکہ و طریقہ کار کو پیش کیا جائے چنانچہ ایک کمیٹی بنائی گئی جس میں مولانا عبدالحمید نعمانی کوکنوینر اور مولانا سید اطہر علی صاحب وڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس صاحب ممبران کمیٹی ہوں گے۔ صدر مشاورت نے کہا کہ نفرت کی سیاست کرنے والے اپنے کو غالب کرنے کے لیے ٹی وی پر آنے والے مسلم شرکاء کو پھنساناچاہتے ہیں، یہ نہ جانے والی بات خطرناک ہے اورکمیٹی بنانے کی تجویز کی تائید کی۔مولانا محمد اسرارالحق قاسمی صاحب، ایم پی نے کہا ہمارے خلاف جو پروپیگنڈہ کیاجارہا ہے اس کے جواب کے لیے ہمیں ٹی وی پر جانا چاہئے اور اہل لوگوں کی ایک ٹیم کو بھیج کر اس ماحول کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔ مجتبیٰ فاروق صاحب نے کہا اس معاملہ میں کیا ہو اور کیا نہ ہو وہ کمیٹی ہی طے کرے لہٰذا کمیٹی کے ارکان کو منظوری دی۔
*مجتبیٰ فاروق صاحب نے آئندہ میقات کے انتخاب کا اعلان کرتے ہوئے اس کے طریقہ کار پر بحث کا آغازکیا۔ صدر مشاورت نے اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتخاب کا سلسلہ مشاورت کی فعالیت کی غماز ہے۔مشاورت مختلف الخیال لوگوں کے اجماع کا نام ہے اور انتخابات کے وقت کافی جوش و خروش دیکھنے کو ملتا ہے لیکن اس میں الیکشن پروسیس کا کمزور پہلویہ بھی ہے کہ زیادہ تر ممبران مشاورت انتخاب کے وقت اصول و ضابطہ پر توجہ نہیں دیتے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہو ئے کہا کہ ۰۱۲ء، ۳۱۰۲ء اور ۵۱۰۲ء کے انتخاب میں مجھ سے ہی رضامندی لئے بغیر میری نامزدگیاں پیش کی گئیں۔ ۵۱۰۲ء میں ۵۵۱،ارکان کی فہرست میں سے ۰۲عاملہ کی نمائندگی کے لیے ۲۳۱ ارکان کو نامزد کیا گیا۔انتخاب میں کیسے شفافیت آئے اس پر غور ہونا چاہئے۔مجتبیٰ فاروق صاحب نے کہا یہ بات تو درست ہے خود کو منصب کے لیے پیش کرنا مناسب نہیں ہے لیکن ارکان مشاورت رضامندی لینا ضروری نہیں سمجھتے ہیں، اس کو دور کرنا چاہئے۔حاضرین مجلس سے ایک تجویز یہ بھی آئی کہ الیکشن میں حصہ لینے والے ممبران سے فیس وصول کیا جائے۔اس پر مولانا محمد اسرارالحق قاسمی صاحب، رکن لوک سبھا نے کہا کہ جس ممبرکا نامPropose ہو رہا ہے اس کو فیس دینا چاہئے اور اسی ممبر کو امیدوار بنایا جائے جس کی تحریر میں منظوری ملے۔ اور بھی آراء سامنے آئیں لیکن یہ فیصلہ ہوا کہ نامزدگی کے وقت امیدواروں کی تحریری منظوری آئندہ انتخابات میں ضروری ہوگی۔
مجتبیٰ فاروق صاحب نے جناب رشید احمد خان (سابق آئی اے ایس)، جنہوں نے ۵۱۰۲ء میں مشاورت کی چناؤ بحسن و خوبی کرایا تھا کا نام ریٹرننگ آفیسرکے طور پر اور الیکشن شیڈول کے اعلان کی تجویز پیش کی جسے عاملہ نے منظور کرلیا۔
گوشورہ آمد و صرف:صدر مشاورت نے گوشورہ آمد وصرف پیش کرتے ہوئے کہا اس میں صرف وہ حساب درج ہے جو مشاورت آفس میں آیا یا خرچ ہواہے، مشاورت کی دہلی سے باہر جو میٹنگیں ہوئی ہیں جسے مقامی ممبران نے صرف کیا وہ اور دوسرے پروگرام جو مشاورت نے مختلف مواقع پر کئے ہیں اور ہمدردان مشاورت نے اسپانسر کئے ہیں وہ اس کو گوشورہ میں شامل نہیں کئے ہیں۔صدر مشاورت نے کہا پچھلے ۲۲ ماہ میں تقریباً ۴۵ لاکھ روپئے خرچ ہوئے۔صدر مشاورت نے مطلع کیا کہ دفترمیں ہوئے اخراجات کے علاوہ مشاورت کے ہمدردان نے تقریباً بیس لاکھ روپئے کی مشاورت کے پروگراموں کو اسپانسرشپ دی اور تقریباً ساڑھے چار لاکھ روپئے کا سامان بھی دفتر کو دیا گیا۔
جناب زبیر جبار گوپلانی نے تجویز پیش کی کہ دفتر میں ایک گاڑی اور ڈرائیور ہونا چاہئے اس پر سوال اٹھا کہ پیسہ کہاں سے آئے گا تو گوپلانی صاحب نے کہا جب کام ہوگا تو پیسہ بھی آئے گا۔مولانا حافظ سید اطہر علی صاحب نے کہا مسلمانوں کی مدد کرنی ہے، کچھ کام کرنا ہے تو اس تجویز کو منظور کریں تاکہ کام کیا جاسکے۔صدر مشاورت نے توجہ دلائی کہ مجلس عاملہ نے جنوری ۶۱۰۲ء میں طے کیا تھا کہ عاملہ کا رکن دس دس ہزار روپئے سالانہ دیں گے لیکن اب تک صرف ۷ممبروں نے ہیسرکل آف فرینڈس آف مشاورت میں معاونت فرمائی۔
تجویز برائے حصول مالیات: مجلس عاملہ نے طے کیا کہ ایک حصول مالیات کے لیے کمیٹی بنا دی جائے تاکہ فنڈ جمع کرنے پر کچھ کام ہو چنانچہ جناب زبیر جبار گوپلانی صاحب کو کنوینر نامزدد کیا گیا۔کمیٹی ممبران میں مولانا حافظ سید اطہر علی، محترمہ عظمیٰ ناہید صاحبہ، سید ثمرحامدصاحب، محترمہ عابدہ انعامدارصاحبہ، ظہیرالدین علی خان صاحب اور تاج محمد خان صاحب کو شامل کیا گیا۔
*جناب پروفیسر جے ایس بندوق والا صاحب نے کہا کہ اجلاس میں مسلمانوں کے مختلف مسائل پرپیش کی گئی قراردادیں بہت ہی مناسب ہیں لیکن اس وقت مودی حکومت ملک کی بدترین حکومت ہے یہ حکومت جرمنی کے ہٹلرحکومت سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔معروف تجزیہ نگاراشیش نندی نے کہا ہے کہ یہ حکومت بہت خطرناک ہے ان کی سیاست ہے کہ آپ ان کی جتنی مخالفت کریں گے ان کواتنا ہی فائدہ ہوگا۔ان کا ماننا تھا کہ بی جے پی اور سنگھ کے لوگ ہر طرح سے لوگوں کو ڈرا کر یا لالچ دے کر اپنی طرف مائل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں۔پروفیسر بندوق والا کی رائے تھی کہ ملک کے اقتصادی حالات بہت خراب ہیں، مسلمانوں کو مودی سے ٹکرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اللہ اس کے ظلم کو کو دیکھ رہا ہے۔انہوں نے تعلیم کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ تعلیم مہنگی ہوتی جارہی ہے اور مسلمانوں کے لیے اس کے دروازے آنے والے وقت میں اس وجہ سے اوربھی تنگ ہو جائیں گے۔انہوں نے حکومت سعودیہ کی پالیسیوں سے بھی اختلاف کیا۔
* جناب سید ثمر حامد نے کہا کہ جناب بندوق والاصاحب نے مودی سرکارکے بارے میں جوبھی کہا ہے اس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ہماری سماجی اور اقتصادی صورت حال کیا ہے اسے سچر کمیٹی کی رپورٹ میں دیکھ سکتے ہیں،ملت کویہ طے کرنا ہے کہ ہم جب بھی بات کریں متحدہو کر کریں۔ انہوں نے تعلیم کے مسئلہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی صورت حال کو دیکھتے ہوئے ان کو کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہمارے بچوں کو جو تعلیم اسکول میں مل رہی ہے وہ نہ ملے تو بہتر ہے۔ہمارے اپنے اداروں میں غیر مسلم بچے بھی آئیں،ایسا ماحول ہمیں بنانا ہی ہوگا اور معیار ی ادارے بنانے ہوں گے۔ ان کی رائے تھی کہ ہمارے بچے پڑھنے کے لیے پوری طرح سے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ یہ سب ہم چھ ہزار طلباء کو دیکھ کر کہہ رہے ہیں جو ان اداروں میں پڑھتے ہیں جن کو وہ دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم کردار سے دور ہو گئے ہیں۔
*مولانا سید اطہر علی نے طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ پر مشاورت کی قرارداد پر رائے دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مناسب ہوگا اگر قرارداد کا پہلا حصہ حذف کردیا جائے۔
* طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ پر مشاورت کی تجویز کوحذف کرنے کی بات پر عظمیٰ ناہید صاحبہ نے کہا کہ مشاورت کے پلیٹ فارم سے طلاق ثلاثہ پر تجویز نہیں پیش کرنا یہ غلط ہوگا۔مجتبیٰ فاروق صاحب نے کہا عوام میں غلط تاثر پیدا نہ ہو اس لیے اسے حذف کرنا چاہتے ہیں۔مولانا اسرارالحق صاحب نے کہا آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ایک بڑی جماعت ہے لہٰذکوئی سخت تجویز پاس کرنے کے بجائے آپس میں مل کر بات کرنی چاہئے اور ایسی تجویز منظور ہونی چاہئے جو مزید انتشار کا ذریعہ نہ بنے اس کے بعد ترمیم شدہ تجویز کو منظور کیا گیا۔دوسرے جن شرکاء نے اس مسئلہ پر رائے دی ان میں ڈاکٹر سید مہرالحسن، جناب محمد شفیع مدنی اور جناب محمد احمد شامل تھے۔
*آسام: مولانا اسرارالحق قاسمی صاحب نے آسام کے تعلق سے کہا کہ کشمیر کے بعد آسام میں مسلمان زیادہ ہیں اور وہ ٹرائبل صوبہ ہے اور وہاں کے ٹرائب ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں، وہاں کے مسلمان تھوڑی کوشش سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ آج وہاں بھاجپا کی حکومت ہے، ان کی سوچ ہے کہ ٹرائل کے ذریعہ بنگلہ دیش کے ہندوؤں کو شہری بنانا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کو بھگانا چاہتے ہیں۔آسام میں پولیٹیکل ایسو ہے اور ڈی ووٹر کا بھی مسئلہ ہے۔۸۴لاکھ لوگوں کو سٹیزن شپ سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔فی الحال ان میں سے تیرا لاکھ چالیس ہزار لوگوں کو نوٹس کی جاچکی ہے جسے وہ غیر ملکی قرار دے سکتے ہیں۔ایسا لگتا ہے آسامی مسلمانوں کی جگہ وہ بنگلہ دیشی ہندوؤں کو بسا کر ہندو آبادی کو بڑھارہے ہیں۔یہ معاملہ سپریم کورٹ میں پیش ہونے والا ہے لہٰذا وہاں پوری تیاری کے ساتھ پیروی ہونی چاہئے۔مجتبیٰ فاروق صاحب نے کہاوہاں کی ندی کے ذریعہ نشیبی علاقہ کے کٹاؤ کی وجہ سے وہاں کی آبادی دوسری خالی جگہ دیکھ کر جاتے ہیں لیکن وہ کسی بھی قسم کے رہائشی ڈاکومینٹ نہیں بناتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ایسے لوگوں کو ۷ بیگھا زمین دیتی ہے اس کی ہمیشہ کوشش ہونی چاہئے۔عظمیٰ ناہید صاحبہ نے کہا انہیں تعلیم یافتہ بنایا جائے اور وہاں بنگلہ دیشی کی حقیقت کو سامنے لائیں۔

*گجرات الیکشن:مجتبیٰ فاروق صاحب نے گجرات الیکشن کے تعلق سے مجلس عاملہ کو توجہ دلائی تو جناب شفیع مدنی صاحب نے کہا یہاں کے حالات دگر گوں ہے۔ ابھی تک الیکشن کا اعلان نہیں کیا گیا اور اس بات کا خدشہ ہے کہ عوام میں منافرت پھیلانے کے لیے موجودہ ریاست حکومت لوگوں کے درمیان تصادم کرادے جس سے ان کو سیاسی فائدہ حاصل ہو۔ مشاورت کے پلیٹ فارم سے کچھ کام کیا جاسکتا ہے۔مجتبیٰ فاروق صاحب نے کہا کہ گجرات میں ایجوکیشن، دلت اور OBCپر ضلعی سطح پر کام کریں لیکن ایسی حالات پیدا نہ ہو کہ مسلمانوں کی وجہ سے کمیونل سیچویشن پیدا ہو۔دلتوں کو آگے رکھیں۔ ۷۱۰۲ء کے الیکشن میں بی جے پی اگر ناکام ہوتی ہے تو ۹۱۰۲ء میں بی جے پی ناکام ہو جائے گی۔شفیع مدنی صاحب نے کہا کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ الیکشن پول کرانا ہوگا۔
دستاویزات مشاورت:مجتبیٰ فاروق صاحب نے مجلس عاملہ میں دستاویزات پر قرارداد کی طرف توجہ دلائی اور ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب کے خط کے جواب کی کاپی تقسیم کی گئی۔ ارکان نے جواب کی زبان کو ناموزوں اور افسوس ناک قرار دیا۔ محمد احمد صاحب نے تجویز کے لفظunethical کے بجائے Unjustice کا لفظ استعمال کی تجویز پیش کی اورکچھ شرکاء نے کہا تادیبی کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب کو مشاورت سے نکال دیا جائے۔ عظمیٰ ناہید صاحبہ کی رائے تھی کہ چونکہ ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب ضد پر اڑے ہوئے ہیں تو اس پر غور کرنا چاہئے کہ راستہ کیسے نکلے۔نوید حامد صاحب نے سوال کیا کہ اداروں کے مفادات کے تحفظ میں اداروں کو اہمیت ملنی چاہئے یااشخاص کو؟۔ مولانا اسرارالحق قاسمی صاحب کی رائے تھی کہ مشاورت کے نام پر جمع ہونے والے دستاویزات مشاورت ہی کی ملکیت ہو سکتی ہے نہ کہ کسی ذاتی فرد کی۔ زبیر گوپلانی صاحب نے کہا تادیبی کارروائی ہونی چاہئے۔ نوید حامد صاحب نے کہا کہ تادیبی کارروائی پر ان کی کوئی ذاتی رائے نہیں ہے اور نہ قرارداد اس کے لیے لائی گئی ہے۔ کیا ضابطہ شکنی کی وجہ سے تادیبی کرروائی کی جاسکتی ہے؟اس حساس مسئلہ پر جن شرکاء نے رائے رکھی ان میں محمد احمد صاحب، شفیع مدنی صاحب، عامر ادریسی صاحب، ڈاکٹر مہرالحسن صاحب، مولانا سید اطہر علی صاحب اور مولانا محمد شعیب کوٹی صاحب وغیرہ شامل تھے۔ لہٰذا اخیرمیں طے ہوا کہ ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب کووجہ بتاؤ نوٹس بھیجی جائے کہ ان پر کیوں نہ تادیبی کارروائی کی جائے؟۔
* مولانا اسرالحق قاسمی صاحب نے اپنی اختتامی کلام میں کہا کہ’’مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہورہی ہے کہ اس مجلس میں ماشاء اللہ بہت اچھے اچھے افراد جمع ہو کر حالات حاضرہ پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اس مجلس میں جو قراردادیں پاس کی گئیں ہیں اس پر عمل درآمد سے بہت فائدہ ہوگا۔ انہوں نے روہنگیا ئی مسلمانوں کے مسئلہ پر توجہ دلاتے ہوئے کہاکہ’’پہلے ان کی شہریت پر شک کا اظہار کیا گیا اور پھر انہیں ووٹر لسٹ سے خارج کرکے ملک ہی سے نکال دیا گیا‘‘۔اسی طرح ہمارے ملک عزیز میں آسام میں پہلے بنگالی اور آسامی کا معاملہ تھاہندو مسلم کا معاملہ نہیں تھا۔ آسو کی گورنمنٹ نے اس مسئلہ کو اٹھایا اور آگے بڑھایا۔ہم سب کو اس پر مل جل کر کام کرنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ یہ فلسطین بن جائے یا خدا نہ خواستہ روہنگیا جیسا مسئلہ ہو جائے۔
اجلاس کے اخیر میں دوبارہ مجتبیٰ فاروق صاحب نے اللہ اور حاضرین مجلس کا شکریہ ادا کیا اور مولانا اسرارالحق قاسمی صاحب کی دعا سے مجلس کا اختتام ہوا۔
مجلس عاملہ کی میٹنگ میں جو حضرات شریک ہوئے وہ درج ذیل ہیں:۔
۱۔ جناب نوید حامد، دہلی ۲۔ محترمہ عظمیٰ ناہید، ممبئی
۳۔ داکٹر عقیل سید، گجرات ۴۔ جناب محمد شفیع مدنی، گجرات
۵۔ جناب مولانا محمدشعیب کوٹی، ممبئی ۶۔ جناب داکٹر سید مہرالحسن، بھوپال
۷۔جناب محمد سلمان بڑودوی، بڑودہ ۸۔ جناب محمد عارف جیراوالا، بڑودہ
۹۔ جناب عبدالرحمٰن کونڈو، سر ینگر ۰۱۔ جناب محمداحمد، نئی دہلی
۱۱۔ جناب مولانا حافظ سید اطہر علی، ممبئی ۲ ۱۔ جناب سید ثمر حامد، نئی دہلی
۱۳۔ جناب مجتبیٰ فاروق، اورنگ آباد ۴ ۱۔ مولاناعبدالحمید نعمانی، دہلی
۱۵۔ جناب ظہیرا لدین صدیقی، اورنگ آباد ۱۶۔ جناب ملک یونس الطاف، بڑودہ
۱۷۔جناب شکیل احمد، بڑودہ ۱۸۔ جناب مفتی عارف حکیم
۱۹۔ جناب پروفیسر جے ایس بندوق والا، بڑودہ ۰ ۲۔ جناب عامر ادریسی، ممبئی
۲۱۔ جناب زیڈ ایس چوہان، برودہ ۲۲۔ جناب مولانا محمد اسرارالحق قاسمی، ایم پی، نئی دہلی
*جن ممبران مجلس عاملہ نے اپنی گوں نہ گوں مصروفیات اور اسفار کی وجہ سے شرکت سے معذرت کی ان کے اسماء گرامی ہیں:۔مولانا سید جلال الدین عمری صاحب، مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی صاحب، جناب نصرت علی صاحب، جناب شیخ منظور احمد صاحب، جناب ڈاکٹر سید فاروق صاحب، جناب غلام محمد پیش امام اور جناب احمد رضا شامل ہیں ۔ جناب محمد احمد نے جناب نصرت علی کی نمائندہ کی حیثیت سے شرکت کی۔
نوٹ: میٹنگ میں جو قراردادیں پاس کی گئیں وہ درج ذیل ہیں؛۔

مجتبیٰ فاروق
سکریٹری جنرل

(Visited 2 times, 1 visits today)