ALL INDIA MUSLIM MAJLIS-E-MUSHAWARAT
[Umbrella body of the Indian Muslim organisations]
D-250, Abul Fazal Enclave, Jamia Nagar, New Delhi-110025 India
Tel.: 011-26946780, 9990366660 Fax: 011-26947346
Email:aimmm.delhi@gmail.com, mushawarat@mushawarat.com
Web: www.mushawarat.com
برائے اشاعت
صدرمشاورت جناب نوید حامد کا وزیر اعظم کے نام مکتوب
ترجمہ
۲۷؍ جون ۲۰۱۷ ؁ء
ڈیروزیراعظم شری نریندر مودی جی
میں یہ خط آپ سے بہت امید کے ساتھ کافی تکلیف اور مایوسی کی حالت میں لکھ رہا ہوں۔ ہمارے عظیم ملک میں بہت کچھ ایسا ہو رہا ہے جو مایوس کن اور افسوسناک ہے.
عید کے مبارک موقع پر ایک سولہ برس کے معصوم طالب علم جوچھٹیوں میں اپنے گھر آیا تھا اور عید کی خریداری کے بعد دہلی سے بلبھ گڑھ ای ایم یو ٹرین سے لوٹ رہا تھا، صرف اس لیے جنونی بھیڑ نے چلتی ہوئی ٹرین میں مار دیا چونکہ وہ ایک مسلمان تھااور اس طرح کا تشدد اس ملک میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔
تمام ہندوستانیوں کے لیے اچھے دنوں کا نظریہ بے اعتمادی اورخوف کے اس ماحول میں گم ہوتا جارہا ہے جو ان تنظیموں نے پیدا کیا ہے، جن میں سے کچھ آپ کی پارٹی اور کچھ آر ایس ایس سے وابستہ ہیں۔ ان کا ایجنڈا تو واضح طور سے ملک کے لیے اعلان کردہ آپ راستے کے خلاف چل رہے ہیں، جس میں آپ نے ملک کی خوشخالی اورترقی پراپنی توجہ مرکوز کی تھی۔ یہ بات آپ کے لیے بھی پریشان کن ہوگی کہ ا ن حاشیہ کی تنظیموں اورعناصر کی حرکتوں سے ملک میں خوف اور نفرت کا جو ماحول بن گیا ہے اس نے صنعت اورتجارت کے لیے سازگار اورمستحکم ماحول پیدا کرنے کے کوششوں کو پٹری سے اتار دیا ہے۔
میں آپ کو گوا میں منعقدہ ہندتوا کانکلیو میں طے شدہ ایجنڈے کے خطرات کی طرف متوجہ کرانا چاہوں گا جس کی وہاں سے تشہیر ہورہی ہے۔ ’گؤ رکھشا‘ کے نام پر جو لگاتار تشدد ہورہا ہے اس نے زرعی معیشت کے تباہ ہوجانے کے اندیشے پیدا کردئے ہیں۔ اگرچہ گاؤ کشی کی روک تھام کا تعلق سرکار کی آئینی ذمہ داریوں سے ہے لیکن آپ کے اپنے بیان کے خلاف جو زیادتیاں کی جارہی ہیں اس کے نتیجے میں بھینس اوردیگرمویشیوں کے گوشت کی پیداوار کو بھی بری طرح متاثر کردیا ہے۔ جس کی وجہ سے آدی واسیوں، دلتوں اوردیگرمحروم طبقوں اور اقلیتوں کو، جن کی عظیم اکثریت خط افلاس سے نیچے ہے، کم خرچ پر پروٹین کے ذرایع سے محروم کردیا ہے۔
المناک بات یہ ہے کہ مذبح خانوں کیخلا ف ضابطہ کے نام پر کاروائیوں نے جہاں چھوٹے اورمنجھولے میٹ تاجروں کے کاروبار کو بند کرادیا ہے وہیں نہ صرف کارپوریٹ گھرانوں کو گوشت ایکسپورٹ کے نفع بخش کاروبار کی طرف راغب کیا جارہا ہے بلکہ ان کارپوریٹ گھرانوں کو مارکیٹ میں فروزن پیکٹ میٹ مارکٹنگ کرنے کا بڑھاوا دیا جارہا ہے۔ مہاراشٹرا، جھارکھنڈ، یوپی اورہریانہ سمیت کئی ریاستی سرکاروں نے جہاں غریب اورچھوٹے کاروباریوں کے خلاف سخت قدم اٹھائے ہیں وہیں نام نہاد گؤ رکھشکوں کو فسادبرپا کرنے اورقانون کواپنے ہاتھ میں لیکرظلم اورزیادتیاں کرنے کی چھوٹ دی جارہی ہے ۔ یہ صورت اس طرح کی غیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف آپ کے بیان کی دیدہ دلیری سے پامالی ہے جو بیان آپ نے کچھ عرصہ قبل ان نام نہاد گؤرکھشکوں کے ذریعہ دلتوں کو زدوکوب کے بعد دیا تھا
جب کہ فتنہ کا درائرہ بڑھتا جارہا ہے، ضلع انتظامیہ نہ صرف بے بسی کے ساتھ تماشائی بنا ہوا ہے بلکہ خاموشی سے ایسے مخاصمہ کو بڑھاوادے رہا ہے کیونکہ ان عناصر کے خلاف کاروائی میں کوئی تندہی نہیں دکھا رہا ہے۔ جن ریاستوں میں بی جے پی کی سرکاریں ہیں ان میں ریاستی سرکاروں کی سرپرستی میں بجرنگ دل کھلے عام اسلحہ کی ٹریننگ دے رہا ہے۔ دوسری طرف جب بھی کوئی لیڈر یا سماجی کارکن ان سرگرمیوں کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو اس کو فرضی الزامات میں دھردبوچا جاتا ہے۔محروم طبقات کے افراد کو خاص طور سے نشانہ بنایا جارہاہے۔ یوپی میں بھیم سینا کے چندرشیکھرکی گرفتاری، جو کہ دلتوں میں بیداری لانے کے لیے کوشاں تھے، اختلافی آواز کو دبانے اورڈرانے اوردھمکانے کی کوشش کی مثال ہے۔
دوسری طرف کئی جگہ گؤ رکشکوں کی طرف سے ترشولوں کی تقسیم سے تشدد پر اکسانے کی کھلی کوشش ہورہی ہے۔ گؤ رکشکوں اور رومیو اسکوائڈ کے نام سے سینہ زوری کرنے والے گروہ ہفتہ وصولی اور امن و قانوں کو بگاڑنے میں لگے پڑے ہیں۔ کیونکہ اس طرح کے گروہ جو خلاف قانون سرگرمیوں میں لگے ہوئے ہیں، وہ سینئر وزیروں اوربڑے پارٹی لیڈروں کی سرپرستی میں سب کچھ کررہے ہیں جس سے پولیس فورس کے حوصلے بھی پست ہورہے ہیں۔
ان خبروں میں ایک یہ خبراطمینان بخش ہے کہ آپ کی کابینہ کے وزیرداخلہ محترم راجناتھ سنگھ نے دوٹوک الفاظ میں اعتراف کیا ہے کہ ہندستانی مسلمان داعش(ISIS) یا دوسری دہشت گرد تنظیموں کے پروپگنڈے کے جال میں نہیں پھنسے ہیں۔ لیکن آپ یہ مانیں گے کہ ہمارے مایوس نوجوانوں کو اس طرح کے خطرات سے دوررکھنے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ان کے خلاف متواتربے اعتمادی ، تعصب ، تشدد اور غیر جانبدارانہ ماحول ملک کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے جیسا کہ آپ نے بھی کئی بار کہا ہے کہ ان کے لیے یہ بات بہت اہم ہے کہ ہمارا ملک قانون کی عملداری کو یقینی بنائے۔ محسن شیخ کی بھیڑ کے ہاتھوں ہلاکت کے کیس میں سرکاری وکیل کا پیروی سے انکار اوراس کیس کی رولنگ تعصب اورتنگ نظری کا ایک بدبختانہ اعلان ہے۔
آخر میں یہ کہ محترم وزیر اعظم صاحب جنونی بھیڑ کے ذریعہ مسلمانوں کی ہلاکتوں کے واقعات میں اب تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ ڈی ایس پی ایوب پنڈت کی سری نگر میں ہلاکت بھی نہایت سفاکانہ اورانتہائی قابل مذمت حرکت ہے۔ ایسا ہی قومی راجدھانی خطہ میں ہورہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسے کچھ افرادجن کی آپ اتباع(follow) کرتے ہیں وہ بھی اس طرح کی لاقانونیت کو جائز ٹھہراکر اس کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ روزافزوں اس بے اعتمادی اورلاقانونیت کے ماحول میں ہم ہندستانی باشندے آپ سے یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ آپ جنونی بھیڑ کے ذریعہ بے قصور مارے جانے والے مسلمانوں کا ماہانہ کوٹا مقرر کردیں تا کہ ہم اس کو آپ کی حکومت کی ایک حقیقت کے طور پرقبول کرلیں گے اوراس گھنونی حقیقت کو مان لیں گے کہ ہم ’ہلاکتوں کی نئی جمہوریہ‘ کے باشندہ ہیں۔
ملک نے 2014 میں آپ کو جو اقتدار دسونپا تھا، اور ابھی حال میں2017 کے یوپی چناؤ نے آپ پر بڑی ذمہ داری ڈالی ہے ۔آپ نے اس ملک اوراس کے تمام 125 کروڑ باشندوں کی خدمت کا جو وعدہ کیا تھا وہ وعدہ اپنی حفاظت کا طالب ہے۔ وہ آئین جس پر آپ نے تین سال قبل حلف لے کراقتدار سنبھالا تھا، اوراسی پر ہم سب مکمل یقین رکھتے ہیں اورامید کرتے ہیں آپ کی حکومت آنے والے دوبرسوں میں اس پر عمل کریگی۔
آپ کا مخلص
نوید حامد،
صدر کل ہند مسلم مجلس مشاورت

 

 

ALL INDIA MUSLIM MAJLIS-E-MUSHAWARAT
[Umbrella body of the Indian Muslim organisations]
D-250, Abul Fazal Enclave, Jamia Nagar, New Delhi-110025 India
Tel.: 011-26946780, 9990366660 Fax: 011-26947346
Email:aimmm.delhi@gmail.com, mushawarat@mushawarat.com
Web: www.mushawarat.com

 

Released for publication

Letter of Mr. Navaid Hamid, AIMMM President’s addressed to PM on current vicious environment in country

27 June, 2017

Dear Prime Minister Shri Narendra Modi Ji

I write this letter to you with great hope amidst tremendous anguish and despair. There is much that is happening in our great country that is disconcerting and disappointing.

Just on the eve of Eid, an innocent student, 16 years old Junaid who was on vacation and was returning after Eid shopping from Delhi to his home in Ballabhgarh by EMU train was lynched just for being Muslim in running train, which unfortunately is not a new trend in the country now.

Your vision of good days for all Indians has been sullied by an environment of distrust and fear that has created by various organized groups, some of whom are affiliates of your party and its parent organizations, the RSS. Their agenda is so obviously going against the path you have set for the country, given your clear focus on development and “Sab Ka Vikas”. It must be equally distressing for you to see your attempts at creating a stable and enabling environment for business in India get derailed by fringe elements that breed fear and hatred in the country.

I must bring your attention to the Hindutva conclave in Goa and the dangers of the agenda being propagated from there. The incessant violence in the name of ‘Cow vigilantism’ has spawned fears of a collapse of the agrarian economy. While the cow slaughter ban emerges from our constitutional duties, the excesses being committed against your own statements have resulted in all forms of buffalo and other meat products being discouraged. This has resulted in the snatching away of available forms of cheap protein from poor Adivasis, Dalits and other marginalised sections including minorities – an overwhelming majority of whom lives below poverty line.

What is ironic is that while small downstream and upstream businesses are being closed down due to the action against slaughter houses, large corporate houses are being encouraged to get not only into lucrative export business but also being encouraged to enter domestic market by launching packed frozen meat. Various state governments have clamped down heavily on poor traders in UP, Haryana, Maharashtra and Jharkhand. Vigilante squads are being allowed to run riot and dispense with kangaroo court style justice in blatant violation of your own statements against such illegal activities, which you made after attacks on Dalits by cow vigilantes, some time back.

The administration too is showing no alacrity and is in fact either watching helplessly or is silently encouraging the goons as this ring of violence spreads far and wide.

Alarmingly there has been no action taken against organizers of “Armed Training Camps” openly being run by Bajrang Dal in BJP ruled states under the patronage of the state governments. On the other hand, activists and leaders who dare to raise voice of dissent are being falsely implicated whenever they seek to raise any these issues. Those of us belonging to marginalised communities are particularly targeted. The arrest of Chandershekhar of Bhim Sena in UP who was working to create awareness amongst Dalits is one such example of attempts at harassment to curb any voice of dissent or protest atrocities.

At other places Trishuls are being distributed in an open expression of hostility and incitement to violence on part of so called Gau rakshaks (cow vigilantes). “Goon Squads” masquerading as anti Romeo squads and “Cow Protection Committees” are collecting protection money and creating serious

law and order problems. The morale of the police force is suffering as these illegal groups are working under orders from senior ministers in state governments and powerful party men.

The heartening bit of news is that the honorable Home Minister in your Cabinet, Mr. Rajnath Singh has so categorically declared that Indian Muslims have not been attracted by ISSI or any other terror organization’s propaganda. However, you will agree that there is much that needs to be done to ensure that our restless youth are kept away from such dangers. The continuous and unchecked atmosphere of distrust, discrimination and violence against them would be dangerous for peace in country. It is critical for them to see that our nation protects the rule of law, like you have yourself stated several times. At the moment the rule of law stands severely tested. The ruling in Mohsin Shiekh (another young asset) lynching case in Maharashtra and the refusal of the public prosecutor to appear for the government in this case is such an unfortunate declaration of bias and prejudice.

 

Finally, Mr. Prime Minister, this lynching of poor Muslims has now become far too frequent and predictable. The horrible act of mob violence resulting in the death of the martyred DSP Ayub Pandith in Srinagar was barbaric and utterly condemnable. The same is going on relentlessly, even in the country’s capital. On social media, people who you follow are encouraging and condoning this lawlessness. In this unfolding environment of distrust, assault and violence, Indian citizens are bound to ask your government to fix a monthly quota of lynching of innocent Muslims. Should we simply accept this as a reality under your rule and accept the sordid fact that we are now citizens of the new Republic of Lynching.

The mandate the country gave you in 2014 and most recently in UP in 2017 puts a great responsibility in your shoulders. Your promise of serving the country and all 125 crores citizens awaits redemption. The Constitution that you so solemnly swore by three years ago is the book that we all have faith in and hope will be upheld by your government in the days to come.

With regards and best wishes

Yours sincerely

Navaid Hamid

President

 

Shrin Narendra Modi

Hon’ble Prime Minister of India

PMO, South Block

New Delhi-110011

 

(Visited 34 times, 1 visits today)