05 July, 2017

In a letter to Mrs. Sumitra Mahajan, Mushawarat President expresses concern over

her advise to media.

Madam Speaker,

Parliament is the temple of democracy and free press is one of its fundamentals. In a democratic country like India, press had always played a prominent and leading role in espousing the cause of the masses, especially downtrodden, poor and underprivileged. Free press acts as a bridge between the government and the people.

I was pained to know that a person of your stature has suggested press to abstain from reporting unpleasant truth in the national interest while addressing participants in a programme organized by a offshoot of RSS, Indraprastha Vishwa Samvad Kendra. You represent saner voice in the country and as a the presiding officer of the world’s largest parliament, which is adored for its transparency and high quality debate, has onerous responsibility to ensure freedom of speech and press. India has achieved distinction of being largest democracy in the world because we allowed free press in the country to report events unbiased. If news gets manipulated and twisted; it loses its sheen. In a free and democratic world we need to maintain journalistic ethics and carry on duties objectivity.

This may not be possible if press is chained and conditions imposed. This will result into collapse of edifice of democracy. If press is asked to avoid reporting shortcomings of the government, it represents signs of press censorship. There are some forces in the country, who are bent upon controlling the press for their political gains and objectives.

But I am hopeful that as a seasoned politician you will always follow dharma of free press as that is the key to success for our country’s prosperity and progress. This will ensure democratic polity in true spirit.

With warm regards,

Yours Sincerely

Navaid Hamid

President

 

Mrs. Sumitra Mahajan

Hon’ble Speaker of Lok Sabha

Parliament House

New Delhi-110001

 

۶؍جولائی ۲۰۱۷

صدر مشاورت جناب نوید حامد کا خط لوک سبھا اسپیکر محترمہ سمترا مہاجن کے نام

نئی دہلی: ۶؍ جولائی ، جناب نوید حامد ، صدر مشاورت نے لوک سبھا اسپیکر کو ان کے آر ایس ایس کے ایک ذیلی تنظیم کے پروگرام میں پریس کو تلخ سچائیوں کو نمایاں نہ کرنے کے مشورہ پر مکتوب لکھا ہے؛ اس مکتوب کا متن درج ذیل ہے۔ (ترجمہ
محترمہ اسپیکر صاحبہ
پارلیمنٹ جمہوریت کا مقدس گھراورآزاد پریس اس کا ایک اہم ستون ہے۔ ہندستان جیسے جہوری ملک میں پریس نے عوام کے حق کی آواز اٹھانے میں، خصوصاً دبے کچلے عوام کے مسائل پر توجہ دلانے میں ہمیشہ ایک نمایاں کردار ادا کیا ہے۔آزاد پریس اصولاً عوام اورسرکار کے درمیان رابطہ کے لیے ایک پل کا کردار ادا کرتا ہے۔
مجھے یہ جان کر رنج ہوا کہ آپ جیسے بلند رتبے کی شخصیت پریس کو یہ مشورہ دے کہ تلخ سچائیوں کو ’قومی مفاد‘ میں نمایاں نہ کرے جوآپ نے یہ بات آرایس ایس کی ایک ذیلی تنظیم ’اندراپرستھا وشوا سنواد کیندرا‘ کے ایک پروگرام میں خطاب کے دوران دیا۔
محترمہ !آپ ملک کی صحت مندفکرکی نمائندگی کرتی ہیں اوردنیاکی سب سے بڑی پارلیمنٹ کی صدر نشین ہیں جواپنی بلند معیار بحشوں اورشفافیت کے لیے باقار ہے۔ اس حیثیت سے آپ پر اظہار خیال اورپریس کی آزادی کی حفاظت کی ذمہ داری بھی آتی ہے۔ ہندستان کو دینا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا امتیاز اس لیے حاصل ہوا کہ ہم نے پریس کو بغیر کسی ہیراپھیری کے ٹھیک ٹھیک رپورٹنگ کی آزادی دی ہے۔ اگرخبروں کو مفاد خصوصی کے تحت توڑ مروڑ کر یا حقائق کو مسخ کرکے پیش کیا جانے لگا تو اس کی عظمت دھندلی پڑجائے گی۔ جب کی ضروری ہے کہ ہم ایک آزاد جمہوری دنیا میں صحافتی قدروں کوبرقرار رکھیں اوراپنی ذمہ داریوں کو معروضی اورمثبت انداز میں ادا کریں۔
اگرپریس پر شرائط عائد کردی گئیں اوراس کو جکڑدیا گیا تو پھر ایسا ہونا ممکن نہیں رہے گا۔ اگرپریس کو یہ کہا جائے کہ وہ سرکار کی خامیوں اورغلطیوں کو’قومی مفاد‘ میں اجاگرنہ کرے تو یہ ایک طرح کی سنسر شپ ہوگی۔ ملک میں ایسی طاقتیں موجودہیں جو اپنے سیاسی مقاصد کوحاصل کرنے کے لیے پریس کو دباکر رکھنا چاہتی ہیں۔
لیکن میں پرامید ہوں کہ آپ ایک تجربہ کارسیاست داں ہیں اورہمیشہ ضرورت ہے کہ آزاد پریس کے دھرم کاپالن کریں گی جو ہماری ملک کی کامیابی، خوشحالی اورترقی کی شاہ کلید ہے۔ اس سے صحیح معنوں میں جمہوری سیاست کو استحکام ملے گا۔
احترا م کے ساتھ ،نیاز مند
نوید حامد
صدرکل ہند مسلم مجلس مشاورت

(Visited 2 times, 1 visits today)