برائے اشاعت

نئی دہلی، ۱۷؍ مئی ۲۰۱۷ ؁ء: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر جناب نوید حامد نے بی جے پی کے ترجمان شری سمبت پاترا کے من گڑھت اس بیان کی سخت مذمت اور تردید کی ہے جو انہوں نے جی نیوزکے پروگرام ’’تال ٹھوک کے‘‘میں آج مورخہ ۱۷؍ مئی کو مشاورت کے تعلق سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ مشاورت نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی موقر حیثیت پر کوئی سوالیہ نشان لگایا ہے۔
مشاورت آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو مسلمانوں کا نہ صرف ایک موقر ادارہ مانتی ہے بلکہ اس کا ماننا ہے کہ ہندوستانی مسلم عائلی قوانین کی حفاظت اور ترجمانی کا وہ ایک اہم ادارہ ہے جس میں ملت کے اہم اکابرین شامل ہیں۔
شری سمبت پاترا کے من گڑھت بیان سے پھر ایک بار ثابت ہو گیا ہے کہ سنگھ پریوار اور موجودہ حکومت کے ذمہ داران مسلمانوں کے موقر تنظیموں کے درمیان نفاق پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔
شری سمبت پاترا کو شاید یہ نہیں معلوم کہ مشاورت کے ممبران آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نہ صرف اراکین میں شامل ہیں بلکہ اس کے کچھ اہم قائدین مسلم پرسنل لا بورڈ کے عہدیداروں میں بھی شامل ہیں ۔ اس لئے آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اس بات کو واضح کردینا چاہتی ہے کہ جو کھیل کھیلنے کی کوشش کی جارہی ہے اس سے نہ صرف مشاورت باخبر ہے بلکہ مسلمانوں سے بھی اپیل کرتی ہے کہ وہ تمام ان لوگوں سے ہوشیار رہیں جو مسلمانوں کے درمیان نفاق پیدا کر کے اصل میں اسلام اورمسلمانوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔
عبدالوحید
آفس سکریٹری

(Visited 5 times, 1 visits today)